دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 262
۲۶۲ صود کو ڈر ہوئے فلک بود مردم وجود او هم رحمت پر مصطفی باشد۔ سعود او اس کی پروانہ ہروقت آسمان کی طرف ہی ہوتی ہے۔ اور اس کا وجود مصطفے کی طرح سراسر رحمت ہوتا ہے۔ انداز خیر در اندروش در سیرت پاک هم از رول سلامی بعد شنا باشد تا بداند جانان خود سر اخلاص اگر پیل مصیبت بزور با با شد وہ اپنے معشوق کی راہ میں کبھی اخلاص میں کمی نہیں آنے دیتا ۔ خواہ مصیبتوں کا طوفان کتنے ہی زور دل پر ہو راه یار وین از بلا نه پرهیزد اگر چه درد و آن یار از رها باشد اُس عورت والے دوست کی راہ میں وہ کسی بلا سے نہیں ڈوبہ تا خواہ اس یار کے راستے میں اثر دیا بیٹھا ہو کند را به پیش و خواب را بر نفس و جمله هارت و علی در این را باشد وہ نیند اور میش کواپنے اوپر حرام کہتا ہے جبکہ سب نیک دیر اسی میں شہرت کی بلا میں گرفتار ہوتے ہیں دل ایک گلشن باشد اوفتاده ز فرق فرانت از بر خود بینی و مهیا باشد اس کادل ہاتھ سے انٹر پی سے گری ہوئی ہوتی ہے اور رسم کی خوردبینی اور اسے پاک ہوتا ہے سول الله بر خلق حرم باشد و اطلف طرق او همه همدردی و عطا باشد۔ همه اس کا اصول صرف خلقت پر رحم اور لطف ے اور اس کا طریقہ کلی طور پر ہمدردی اور سخاوت ہوتا ہے۔ همیشه نفس شرفین بکاره از حسرت که چون گوه بدان تاری بومی باشد اس کا شریف دل ہمیشہ اس حسرت سے میں رہتا ہے کہ میرے لوگوں کی جماعت کسی طرح ہدایت پائے گا۔ همیشه محترز از محبت بدان ماند ظہور اے بیٹے دیں سمجھو اصفیا باشد مین شریروں کی محبت سے مجتنب رہتا ہے اور اولیا اللہ کی طرح دین کے لیے غیر مند ہوتا ہے