دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 235
۲۳۵ خلق و عالم جمله در شور و شهراند عاشقانش در جهان دیگر اند معوقات اور دنیا سب شور و شر میں مبتلا ہے مگر اس کے عاشق اور ہی عالم میں ہیں اس چول اس جہاں چول ماند پرکیس تا پدید از جہاں آں کو روہی بجھتے چہ دید وہ عالم میں شخص سے پوشیدہ رہا۔ اس بدبخت نے دنیا میں آکر دیکھا ہی کیا؟ ناه حتی بر صادقال آسان تر است هر که جویده دانش آید بدست صاد این پی اور کا راستہ پانا آسان ہے جو خدا کو موڑتا ہے تو اس کا دامن اس کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ بر بر که جویده دلش از از صدق و صفا ے وہ دہندش سوئے آئی بہت السما السما جو بھی صدق و صفا کے ساتھ اس کا وصل چاہتا ہے اس کے لیے آسمانوں کا خدا وصل کا رستہ کھول دیتا ہے صالت قال را می شناسد چشم یار کنید و مکر اینجا نمی آید بکار یار کی نظر میچوں کو پہچان لیتی ہے ۔ کمر اور چالا کی یہاں کام نہیں دیتی مد مصدق سے باید جائے وصل دوست هر ک بے سترتش مجید حق اوست دوست کے وصل کے لیے صدق درکار ہے جو بغیر مصدق کے اُسے ڈھونڈتا ہے وہ بیوقون ہے صدق ورز سے در جناب کبر یا آخرش سے یا بد از بین وفا خدا کے حضور صدیقی کو اختیار کرنے والا آخر کار اپنی وفا کی برکت سے اُسے پالیتا ہے۔ د مسدود کنید به صدق یار رفته بازی آید به صدقی یار سیکڑوں پر دانے صدق کی وجہ سے کھل جاتے ہیں کھائیں دورست صدق کی وجہ سے واپس آجاتا ہے صدق در دال کا میں باشد نشاں کر دیئے جاناں بکت دار ند جاں سیوں کی یہی علامت ہے کہ محبوب کی خاطر ان کی جان تھیلی پر ہوتی ہے حالت ہے کہ کی خاطر ان کی جان پر ہوتی