دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 231
۲۲۱ من بریں موم بخواندم آن کتاب کال منتزه او فتاد از ارتیاب میں نے ان لوگوں کے سامنے وہ کتاب پڑھی پر ریب اور شک سے پاک ہے ربیعنی قرآن ) هم خبر ایش کردم نبال رسول کو صدق از فضل حق پاک از محصول انیٹر اس رسول کی حدیں بھی پیش کیں جو بفضل خدار استباز ہے اور تو گوئی سے پاک ہے لیکن انہاں راکتی رہوئے نبود پیش کرکے گریہ پیشے چه سود لیکن ان کا ارادہ ہی تھی قبول کرنے کا نہ تھا بھیڑا لے گے آگے بھیڑ کا رونا فضول ہے کا نرم یم گفتند و رو با تافتند آن یقیں گویا دلم شکافتند نھوں نے مجھے کافر کیا اور منہ پھیر لیا اور یقین کر لیا کہ گویا انھوں نے میرا دل چیر کر دیکھ لیا ہے اندر بیان خوب گفت آن شاہ دیں کافراں دل پر دل چھلی مومنیں تھی کے بارے میں اس شاہ دین نے کیا خوب فرمایا ہے کہ یہ لوگ دل کے کافر ہیں اور ظاہر کے مومن به زبان قرآن مگر در سینه ها حب مینا است و کبر و کینه ها ان کی زبان پر قرآن ہے مگر ان کے سینوں میں دنیا کی محبت کبر اور عداد میں ہیں دانش دین نیز لان است وگران پشت نمودند وقت بر رصات دین کی سمجھ کا دارہلی بھی صرف لات دوگزان ہے کیونکہ ہر جنگ کے وقت انھوں نے پیٹھ دکھائی ہے جاہلاتے فاضل از نانه ی نه مال هم نه قرآن هم به اسرایه تعامل یہ وہ جاہل ہیں جو عربی زبان سے ناواقف ہیں تیری قرآن اور اس کے باریک بھیدوں سے بھی کیریاں چوں تا کمال خود رسید غیرت می پردہ ہائے شاں حدید جب ان کا تکبیر اپنے کمال کو پہنچ گیا تو خدا کی غیرت نے ان کے پردے پھاڑ دیئے