دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 227

۲۲۷ نور را داند کسے کو گور شد دار حجاب سرکشی با دود شد دار با مور کو وہی شخص رکھتا ہے جو خود اور ہو گیا ہو۔ اور سرکرتی کے چھالوں سے دور ہو گیا ہو ایں ہمہ کورال که تکفیرم کنند یگان از نور قرآن قال اند یہ سب اندھے جو میری تکفیر کر رہے ہیں۔ یقینا قرآن کے ٹور سے بے خبر ہیں ے خبر از راز ہائے این کلام ہرزہ گویاں باقصان و ناتمام اور اس کلام کے اسرار سے ناواقف ہیں۔ بیہودہ گو ۔ ناقص اور خام ہیں در کف شمال استخوانی بیش نیست در سرشان فعل مهد اندیش نیست ان کے ہاتھ میں بڑی سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اُن کے سر میں دور اندیش عقل نہیں ہے میرا رده اند و فهم شال مردار هم به تصیب از شن دار دلدار هم وه کو نمود مردہ ہیں اور ان کا تم بھی سردار ہے وہ عشق اور معشوق ق دونوں سے محروم ہیں العرض فرقتل مداره دین ماست اور انیس خاطر همین ماست الغرض قرآن ہمارے دین کی بنیاد ہے او د ہے وہ ہمار سے کلین در شمگین دل کو تسلی دینے والا ہے نورہ فرقان سے کند ہوئے محمد سے قوال و بدن از ورود سے خدا فرقان کا تو خدا کی طرف کھینچتا خدا کی طرف کھینچتا ہے اس سے خدا اس سے خدا کا چہرہ خدا کر چہرہ دیکھ سکتے ہیں ما چه سال بدیم وای دلبر نظر چھوڑو نے اوکجاڑے سے دگریا ہم اس معشوق سے اپنی انہیں کون کربن کرسکتے ہیں۔ اس کے چہرہ جیسا خوب صورت اور کوئی چہرہ کہاں ہے روی من از تو رہے اور بافت یافت اور فیش دل من مرده بافت میرانہ اس منہ کے نور کی وجہ سے چک الٹا میرے دل نے جو کچھ بھی پایا اسی کے قمیضیں سے پایا