دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 223

۲۲۳ اکس نہیں مردم کا روئے نکرد این نصیبت بود ا سے فرخنده مرد ان لوگوں میں سے کسی نے بھی ہماری طان شیخ نہ کیا اسے نیک نصیب انسان یہ بات تیری قسمت میں ہی تھی ہر هر زمان با سفته یادم کنند خستنه دا کنند خسته دل از بود و بیداد درو میدادم کنند یہ لوگ تو ہر وقت مجھے لعنت سے یاد کرتے ہیں۔ اور ظلم و جفا سے مجھے رکھ دیتے رہتے ہیں کسی بچشم یا به صدیقے نہ شد تا بچشم غیر زندیقی نه شد یدہ کی نظر میں کوئی تشخص متدین قرار نہیں پاتا جب تک وہ غیروں کی نظر میں زندیق نہ ہو کا کا فرم فرم گفتند و دخیال و لعین ہر قلم ہر لیجے در کمیں اجمل نے مجھے کا فرد حال اور سختی کیا اور ہر کمیتہ میرے قتل کے لیے گھات میں بیٹھ گیا بنگر این بازی کنال را چون هند از حسد بر جان خود بازی کنند ای بازیگروں کو دیکھ کہ کس طرح چھلتے ہیں یہ حد کے بارے اپنی جان سے ہی کھیلتے ہیں۔ مومنے را کافر سے دادن قرار کار جال بازی است نزد ہو شیار کسی مومن کو کافر ٹھیرانا سمجھ والے آدمی کے نزدیک بڑے خطرہ کی بات ہے ا کہ تکفیر ہے کہ ان نا حق بود و اس آمید بر سر المنیش محمد کیونکہ جو تکفیر ماضی کی جاتی ہے۔ وہ تکفیر کرنے والے کے سر پر ہی واپس پڑتی ہے سفلہ کو غرق در کفر نہاں ہرزہ نالد بر کفر دیگراں: م مل نے وقت ہو تھی کفر میں فرق ہے وہ اوروں کے کفر پر ناحق بیہودہ نکل چاتا ہے۔ ا کر بغیر ماں کفر باطن داشته خویشتن را بدتری انگاشتے اگر اکو اپنے باطنی کفر کی خبر ہوتی تو اپنے آپ کو ہی بہت برا سمجھتا