دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 221
۲۲۱ ر کیا کہ تین نشانی است کبیر قوم ان تار کے نشانات دیکھا ایک کھول کر تیری اکھ کے سامنے ایک عظیم الشان نشان ہے ود وار که می بینید و سافت دور نہیں ہوتے یہ بہت نیز از خزرین اس کی طرف اپنا سنا کر کہ اگروہ قبول کرلے تو منہ ایک اٹھے گا ورنہ یہ رو کے سیاہ منور سے بھی بہتر ہے ایون قالی میر فروزان مالک ارض و سما کر یگی در غضب پانی پینه بست و امیر و زمین وآسمان کے بادشاہ سے کیوں اہ اور موجود سے سیکھا کر ہے تمر شم د زمین ملک آتش و آب هم در قبضه آن یار عزیز اند اسیران چاند سوری زمین و آسمان رنگ اور پانی سب اس بوہت والے دوست کے قبضہ میں تیری ہیں قدسیان که بر و نازیل بلیت پاک تیار اول درمان خون و الم دامنگیر حسب فرشتے اُس کی ہیبت سے مانتے ہیں انبیاء کی جان اور دل توان ہے اور خون و انگیر ہے بته در نرخ سوزنده از دمی لرزند چه چیزی چون تمام رتبه ای کرم حمیر مت اور بلانے والا وہ رخ اس گوت کا پیتے ہیں اسے پھر کپڑے تیری ہستی ہی کیا ہے اور تیری معرفت ہی کیا ہے۔ چه این جنگ بداله بنده خواهی کرد توبه کن تو به گر در گذرد از تقصیر خدا تعالے سے کب تک یہ جنگ وجدل کرتا رہے گا۔ توبہ کر تو ہو تا کہ دو تیری خطائیں معاف کر دے من اگر در نظر یار مقامی دارم پس و اتصال کو بیان تو داد تحقیر دارم ی ار ای کی نظمیں کوئی وجہ رکھتاہوں تو تیری با گوئی اور تغیر سے مسے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے سے لعنت آنست که او سوئے خدا سے بارد لعنت بد گران است کیسے ہر نہ تغیر اوست سنت وہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے بلاول ہوا۔ یہ اصلی لوگوں کی لعنت محض بیہودہ شور ہے