دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 20
که خداوندش بداد آن شروع و دیں کمال نگردد تا ابد متغیری این شانے اسے وہ اوویں تا شریعت اور دین عطا کیا۔ جو کبھی بھی تبدیل نہ ہوگا تانت اقول بر رویاره تامین تا زیانش را شود وہاں گرے ہے وہ عرب کے ملک پر یہ سکا۔ تاکہ اُس ملک کی خرابیوں کا انسداد کرے بعد زال آن نور دین و شریع پاک شد محیط عاملے، چوں چشبری و بعد المال وہ نور اور پاک شریعیت تمام عالم پر آسمان کی طرح محیط ہوگئی خلق را بخشید از حق کام جمال دا کا میر جہاں ادارہ ائیندہ یہ کام الہ دورے خلوق کو خدا کی طرف سے مقصد زندگی بخشتا اور ایک از دوہے کے منہ سے اُسے رہائی دلائی اور ایک ایک طرف جبرال اردو شاہان وقت ایک طرف مبہوت سر دانشور ہے ایک طرف شاہان وقت اُس سے حیران تھے ۔ دوسری طرف ہر عقلمند ششدر تھا۔ نے پبلش کسی رسید و نے بزور در شکستہ کبر ہر منکرے طرف A نہ اس کے علم تک کو علم تک کوئی پہنچا نہ اُس کی طاقت تک اس نے سر مستکبر کے تعمیر کو توڑ کر رکھ دیا او چھ سے دارد بمطرح کسی نیاز مرح اور خود فخر ہر دست گرے اسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اس کی طرح ہر مست کر کے لئے باعث فخر ہے۔ اسے بست اور در روضه قدس و جلال در جلال دانه خیال ماد حال بالاتری وہ پاکیزگی اور جمال کے گلستان میں ممکن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالاتر ہے اے خدا بر دسے سلام مار سال ہم بر اخواش زہر پیغمبر سے اسے خدا ہمارا سلام اس تک پہنچا دے۔ نیز ہر پیمبر پر جو اس کا بھائی ہے