دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 216

۲۱۷ اور نمک بار یخیت اندر جانی با جان جان ماست آن جانان ما جان اس نے ہماری رہوں پر شیت کا ایک چھڑکا ہے۔ وہ ہمارا محبوب ہماری جانوں کی جان ہے۔ روسو نے نقش بستنی رو گرفت جان عاشق رنگ سنتی زد گرفت پر اچھے نے اسی سے اپنی ہستی کا فتش حاصل کیا ہے اور ان کی جان نے بھی مستی کا رنگ اسی سے لینا مرکز از دوش خود بخود جانے بود اونہ دانا سخت نا دانے بودا میں شخص کے نزدیک روح خود کو پیدا ہوگئی ہے دا شخص وانا نہیں ما نہیں بلکہ سخت بیوقوف ہے کرده و مانه شان رحال مجرے میانی را با جان اور کیا میرے اگر ہمارا وجود اس رحمان کی مخلوق نہ ہوتا تو ہماری جان اور اس کی جان ایک جیسی ہوتی آنکه جهانی ما بجانش مهر است جائے ننگ و عار نے پر بیشتر است وہ جس کی جان سے ہماری جان برابر بوده پر میشر نہیں ہے بلکہ قابل شرم وجود ہے مر مفهوم خدائی قدرت است مشکی آن بانی صد سخت است۔ خداشناسی کا بھید اس کی ندرت میں ہے قدرت کا منکر سینکڑوں لعنتوں کا مستحق ہے۔ کر خدائی صدق این گفتار را هم نه نانک بشنو این اسرار را تو اس بات کی سچائی کو نہیں جانتا تو ناک سے ہی یہ راز کی باتیں ہیں۔ یہ رازہ مین ہے باتیں شیریں فت گفت بر نور سے زتوری بافت هر دو در نقش خود زان دست ریاست س نے کہا کہ ہر نور خدا کے نور سے چپکا ہے اور ہر و جود تھے اسی کے رتھ سے اناقش حاصل کی ہے وی سے گو کہ ہرحال پول خداست خود بود نے کردیا رب الدین است ت و یہ کہتا ہے کہ ہر روح خدا کی طرح ہے اور آپ ہی آپ ہے نہ کہ رب العالمین کی پیدا کی ہوئی