دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 212
۲۱۲ زهر میرو تریاق است به استرا میں کشاں سے دور جان دیگر ہم میں زہر ہے تریاق دونوں بھی ہیں۔ وہ قتل کرتا ہے اور یہ دوسری زندگی بخشا ۔ د هر را دیدی نه دیدی چاره چاره اش اش اینکه آنکه بوده بوده اند از ازل کفاره اش اش تو نے زہر کو تو دیکھ لیا مگر اس کا علاج نہ دیکھیا ہو ہمیشہ سے اس کا کفارہ ہے چال دو شیت دادہ اندر سے ہے خیر پس چرا پوشی کے وقت نظر ے ہے شہر جب تجھے دو آنکھیں دی گئی ہیں تو دیکھتے وقت کو ایک کو کیوں پھانک لیتا ہے۔ ایک نظر میں ونے میں دنیائے ہوں چوں بگردی از پئے آں سرگوں ذرہ اس میل دنیا پر نظر ڈال کہ کسی کہ کس طرح تو اُس کے پیچے سرگرداں پھر رہا ہے آنچه داری از منابع و منزلت بے مشقت با نگشته جہ حاصلت جو کچھ بھی سامان اور سورت تیرے پاس ہے وہ تجھے وہ تجھے بغیر محنت کے حاصل نہیں ہوتی بایدت تا مدتے جسے دراز نا خوری دکشت خود نا نے فراز تا در خودا نے فراز ایک ہے عرصہ کی کوشش درکار ہے تاکہ تو اپنی کھیتی سے روٹی کھائے چول ہیں قانون قدرت اوفتاد میں ہمیں یاد آر در کشت معاد جب قانون قدرت ریسا ہی واقع ہوا ہے ہی آخرت کی کھیتی کے لیے بھی یہی بات یا درکھ کی لیے بھی یاد خوب گفت آل قادر رب الوری کس بالانساني الا ما سَف رب العالمین قادر خداقے کیا خوب فرمایا ہے کہ انسان کو اپنی کوشش کا بدلہ ضرور ھتا ہے اپنی کا ضرور هم دین نیست گر تو بشنوی یادگار مولوی در شنوی اگر تو سنتے تو ہی مطلب کا مضمون وہ بھی ہے ۔ ہوا نشنوی میں سواری معلومی کی یاد گار ہے