دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 201
۳۱ د میر مایید با مصطفی است که نمیدست نظیرش سروش مصطفے ہمارے پیشوا اور سردار ہے جس کا ثانی فرشتوں نے بھی نہیں دیکھا اینکه خدا مثل رختش تا فرید که ریش خون بر عقل و ہوش ایا ہے کہ خدا نے اس کے پر ہیں اور کوئی کار پیدا ہی کیا امی کا طریقہ پرستی کی تلاش کا خوندیم وقتمون دیں حملہ پردے کند حیف بود گر بنشینم خموش شمی دیں اس پر حملہ کرتا ہے شرم کی بات ہو گی اگر میں خاموش بیٹھا رہوں چون سخن سفلہ بگوشم رسید در دل من خاست پو شتر خوش جب کمینہ دشمن کی بات میرے کان میں پہنچی تو میرے دل میں قیامت کا بوش پیدا ہوا چند توانم که شکیبی کنم چند کند صبر دل زهر نوش کب تک میں میر کرتا رہوں زہر اپنے مالکا دل کی بیک صبر کر سکتا ہے اس یہ مسلمان نیز از کافرست کشن نبود از پئے اس پاک ہوش و شخص مسلمان نہیں بلکہ کافروں سے بھی بدتر ہے مجھے اس پاک نبی کے لیے غیرت نہ ہو مان شود اندر و پاکش فدا مرده همین است گر آید بگوش اس کے پاک نیب پر ہماری جان قربانی ہو مبارک بات یہی ہے اگر سنتے ہیں آئے کو نہ در ہائے عزیزش رود بار گران است کشیدن بدوش وہ شرجہ اس کے مبارک قدموں میں نہ پڑے صحت کا بوجہ ہے جسے کندھوں پر اٹھانا پڑتا ہے ا مجموعه اشتهارات معده شمه ت حمد ششم صفحه ۵۹۳ لے یہ سعدی کا شعر قدر سے تغیر کے ساتھ ہے۔ محوره ۱۰ دی ۱۴۱۸۹۴ *