دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 183

۱۸۳ حال می شوخی این سر د شیخ بد زبان جلد میداند خدا کے حامل دان و بر و بار ہمارے حال اور ان دو زبان دونوں کی شوختی کو دائے علیم و بردبار پور سے طور پر جانتا ہے م مو تا دنبال کار جهاده اند این امر یا شاریوں کو پین دشت خوار اتھوں نے میرا نام دیا گیا اور کا ریکہ چھوڑا ہے اوران کے خیال میں میرے پیا اور کوئی نا پاک دامن ایل میں یچ کس این مظلوم نگین دل سوخت چو تو یں دل سوخت جز تو کاندر خوابها رحمت نمودی بار بار ما تمکین کے لیے کسی کا دل نہ جلا ہوا کا دل نہ میں سو انتیرے میں نے خوابوں میں مجھ پر بار بار شفقت دکھائی " میں ان خداوند کریم و دلار جروب من دارد مردم مید بر این مراچول انکساری دار مردم میده ہاں میں خدا نے کریم نے یہ میرا شوق و محبت ایک بہار کی طرح ہمیشہ مجھے تسلی و نے تسلی دی او پر دنیا رہتا ہے ادی ایرنا با بی مربی کوفت سرمه در پیشے بنا دیتا نے گرد و غبار سے نے کا ایک کے تاب نہیں ہوا ایک بار کو ایک ی کی مسلمان کنی از نخل و کیس شیریت آید ز خدائی علم اندی اختیار اے دشخص ہو نیل اور دشمنی کی وجہ سے سلمانوں کی تکفیر کرتا ہے ۔ مجھے منصف اور قادرہ خدا سے منصف اور قادر خدا سے شرم آنی چاہیے۔ سل باشد از زبان خویش تکفیر کے شکل فقدان ان کی پرسراوی کرد گام بی زبان سے کسی کو کا فرکہ دینا آسان ہے گی اس وقت مشکل پڑے گی جب خدائے کردگار پر اپنی لگوی اجرا را کارتنی نام نام اسے اسی ای کیر تو داری داری خوب بی تو بی کفر خود برای ے بھائی تو کار گنوں کا نام کار کیوں رکھتا ہے اگر تو خوب بدا رکھتا ہے تو خود اپنے کفر کو جڑ سے نکال رکھتا ہے تو خدا نے کو جڑ سے پیر شی خلق پیرل رانی دانی هنوز ایت بیش و پیران د مور و البا و بخشد صدق البان اس کار کیوں کو بوڑھا ہوگیا مگرابھی تکہ بوڑھوں ڈالے اخلاق کو نہیں جاند اند امجھے بوڑھوں کی طرح سوز اور صبر عنایت کرے