دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 166
144 تو اس عمال بود که دور فراست فیقی است این عظیم تیره پشیزرے تھے حرم رتی ہے کہ اس کا نہ اس سات ساتھ لیا ہے ہاں ایک ملک کو میں ایک کوڑی کوبھی نہیں عزیزی روز قدم من نشده سد مقام من نون سے بری یاد کند وقت نو شرم کے دن میری تم میرا نہیں پانی کی ایک دن آیا کہ وہ دور کر میرے مالک وقت کو یاد کرے گا لیکن انے قوم من بعد نظر سوئے غیب دار از دست خود به عجز به هر نو سترم لے میری تو مر یا تویہ کی رات نظر کہ تاک میں اپنے ہاتھ رضا کی نگاہ میں تیری خاطر اجوری کے ساتھ پیاروں کر جو ناک میں تو قدم بود چه باک چول خاک نے کہ انوش خاشاک کنم یتے نزدیک میری تو خاک کجا بھی ہو تو کیا مضائقہ ہے خاک تو کیا میں کوڑے کرکٹ سے بھی زیادہ حقیر ہوں ف است فضول اور نواز دوره این کرم نه آدمی مدت است نه گوهرم ی اس کا اصل اور مطلف ہے کہ وہ تم رمانی کرتا ہے وہ نہیں تو ایک کیڑا ہوں نہ کر دی سپر ایک کیڑا ہوں نہ کہ آدمی بیپسی ہوں نہ کہ کمانی ز گونه دست دوم از غیر خود کشید کوئی کیسے نبود دگر در تصورم س ہاتھ نے ہی طرح لیے میں کوفیر کی طرف کھینچ لیا گویا اس کے سوا اور کوئی بھی میرے خواب و خیال میں دانتھا عداد خد العشق محمد محترم مگر کفر این بود بخدا سخت کافرم ضا کے بعد میں محمد کے عشق میں سرشار ہوں۔ اگر یہی کفر ہے تو بعد میں سخت کافر ہوں - سه تار و پود من بسراید بعشق او انه خود نمی دانه عمر آل داستان پرم میرے رنگ رشتہ میں اس کا منشور ہی گیا ہے میں اپنی خواہشات سے خالی اور اس مطوق کے علم سے پڑا ہوں اے من در حریم قدس چه ارغ صدا تختم دستش محافظ است نه بر باد در حرم میں دو تیس میں صداقت کا چراغ ہوں۔ اسی کا ہاتھ ہر تیر ہوا۔ ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے