دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 158

۱۵۸ ول مرا بخشیده صدق انہیں کرو گرانی نیست بیرم کرنا کام میرانی وریں جب تو نے مجھے اس سور دلگداز میں صدق بخشا ہے تو مجھے یہ امید نہیں کہ تواس معالم میں مجھے ناکامی کی موت نگار مار با یادتان برد نان ناتمام دار است این باشد نان راستین بیوں کا کاروبار ہر گز نہ مکمل نہیں رہتا۔ صادقوں کی آستین میں خدا کا اتھ تھی ہوتا ہے رنتی اسلام عقیده ن تا مطبوعه ۱۸۹۱ ۶) شان احمد کردند و خداوند کریم چنان از خود باشند که میان افتادیم حمد کی شان کو سوائے خداد نداریم کے کان جان سکتا ہے وہ اپنی خودی سے اس مرت الگ ہوگیاکہ میمو یا آن گر گیا نان دادند محو دلبرکز کمال اتحاد کی اور نہ سرا سر صورت ربته تهمیم وہ اپنے معشوق میں اس طرح محو ہو گیا کہ کمال اتحاد کی دیر سے اس کی صورت بالکل رب پریم کی صورت بن گئی لئے جو حقیقی میر مدال سے پاک ذات حقانی معاش منظروات قدیم محجوب حقیقی کی خوشبو اس کے چہرہ سے آرہی ہے اس کی حقانی ذات خدائے قدیم کی ذات کی منظر ہے گرچہ تسلیم کر کس کئے الحاد و متلال چوں دل احمد نے امی درگیر شے عظیم | خواہ کوئی مجھے الحا اور گمراہی سے ہی نسوب کرنے گئیں تو احد کے دل سیال کوئی عظیم الشان عرش نہیں دیکھتا ان ایر در اکران در ایرال روز گار یلدا امیر از ذوق آن این انیمه خدا کا شکر ہےکہ میں دنیا اس کے برخلات اس سرعتہ نعمت کی خواہش کی وجہ سے سینکڑوں دیکھ خریدتا ہوں امی نابات تعداد از فصل آن دادار پاک و من فرمونیانی بر عشق آن میلیم۔ تدا کی مہربانیوں اور اس ذات اقدس کے فضل و کرم سے میں بھی اس کلیم کی محبت کی خاطر فرکوئی رنگوں کا چین ہوں دن