دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 155

۱۵۵ کے ازہر میں دون خود طرفی گرفت رو ای خالی شد پر دشمن جنت ارمکی شخص نے اپنے پیل نفس کی خاطر ایک پہلو اختیار کر لیا۔ اس لیے دین کا پلو خالی ہے اور ہر میں کمیں گا بھی کہیں گا میں کروایا ائے مسلم تا چه آثار مسلمانی ہمیں است دین میں انتر شما در حیفہ مونیا ر ہیں چھٹے ہوئے ہو سے ملا تو کیا یہی مسلمانی کی علامتیں ہیں دین کی تو حالت ہے اور تم مروار دنیا سے۔ کا دنیا را به احکام در شهر شماست یا گراز دل برون کردید موت اولین کیا تمہاری نظر میں دنیا کا عمل بہت مضبوط ہے ، با شاید پہلوں کی موت کا خیال تمہارے دل سے نکل گیا ہے۔ دور موت آدریایی الان فکر کنید دور نے تا کے مجریان طیف و مہ ہیں نے خاطر امرت کا وقت قریب آگیا اس کی فکر کر چین اور پر نہیں مشوروں کے ساتھ دو شراب کب تک چھلکا ہو گیا۔ نسی خود رامینه مو نیامدار اسے ہوشمند در یخی را بینی وقت انفاس پیسیں ے عقلمند اپنے نفس کو دنیا کا تیدی مت ہندور کرنے کے وقت بہت سختیاں برداشت کرئے گا ول ما ابدا اے کہ منشی دبیر ست تا سور دائی یا بی خیر الحسنین اس مجھو کے سوا میں کا حسن انتقال ہے اور کسی کو دل کر دے تاکہ تو وہی خوشی ندا سے محسن کی طرف حاصل کرنے ان خود مندی اور یوان را پیش بود و یا اسے اگر ست ہونے کی یاد میں وہ آدمی عقلمند ہے جواس کی راہ کا پیمانہ ہے اور وہ شخص ہوشیار ہے ہو اس میں عیوب کے چہرہ کا گرویدہ ہے است اما می توآپ انا لازوال ر ر نو ید ست او ر و نیو سید زین اس کے عشق کا جام لا زوال آپ حیات ہے میں نے اسے پی لیا وہ پھر ہر گز نہیں مرے گا اسے برادر دل مرد در دولت دنیائے دوں زہر خو زید است در ہر قطرہ ہیں انہیں اے بھائی اس دلیل دنیا کی دولت سے دل ہو گا اس شہد کے ہر قطرہ میں زہر ہلاہل بھلا ہوا ہے 4