دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 148
۱۳۸ هروره فشاند از تو نورے ہر قطرہ برانم از تو انبار ہر ذرہ نیر انور پھیلاتا ہے ۔ ہر قطرہ تیری توصیف کی نہیں بھاتا ہے ہر سوز بجائپ تو شورے ہر جائز غرائب تو اذکار ! تیرے عجائبات کا ہر طرف شور ہے اور تیرے غرائب کا ہر جگہ ذکر ہے از یاد تو نور ها به بینم در حلقه عاشقان خونبار میں تیرے ذکر کی برکت سے اتوار دیکھتا ہوں آہ و زاری کرنے والے عاشقوں کی جماعت ہیں آنکس که به بند عشقت افتاد دیگر نشنید پند اختیار و شخص ہو تیری قید محبت میں گرفتار ہو گیا۔ پھر اس نے دوسروں کی نصیحت نہ سنی اسے مونس جہاں چھ دستانی کره خود بر بودیم به یکبار دے میرے موتیس بہاں ! تو کیسا ولنتاں ہے کہ دفعتاً تو نے مجھے وہ ہوش کر دیا از یاد تو اب دلی به غم فرق دارد گرے نہاں صدف وار تیری یاد میں میرا دل غم میں غرق ہو کر صدف کی طرح ایک موتی اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے۔ چشم و سر با فدائے رویت جان و دل ما بتو گرفتار 1 ہو میری آنکھ اور سر مجھ پر قربان ہیں اور میرے جان و دل تیری محبت میں قید عشق تو به نقد جان خریدیم تا دم نه نهند دگر خریدار جان دے کر تیرا عشق خریدا۔ اہم نے نقیر جان دے خریدا ہے ۔ کہ پھر اور کوئی ا کہ پھر اور کوئی خریدارم نه غیر نہ تو کہ سرزد سے زیم! نہ مار سکے میجر در برج دلم نماند دیار ! در استکان میرے گریبان میں سے نمودار ہوتا جبکہ میرے دل سے نمودار ہوتا جبکہ میرے دل میں اور کوئی لینے والا ہی نہیں تیرے سوا اور کون میرے