دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 136
عاشقان در عظمت مولی فتا فرقہ دریائے تو جید از وفا در عاشق مولیٰ کی عظمت میں فنا ہیں۔ اور وفاداری کی وجہ سے دریائے تو سعید میں فرق ہیں کین در شان همه بهر خداست قهر شال گر است آن قهر خدا است ان کی دشمنی اور دوستی سب خدا کے لیے ہے۔ اگر ان کو غو خدا کے لیے ہے۔ اگر ان کو غصہ بھی آتا ہے تو وہ خدا ہی کا نفقہ ہے اینکه در عشق احمد محمود ناست هر چه نو آید ز ذات کبریاست جو خدا کے عشق میں ذاتی اور مجھ سے ہو کچھ بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ ذات کبریا ہی کی طرف سے ہے نانی است و تیر از تبریق است عید او در اصل نخجیر تی است ادہ خالی ہے اور اس کا تیر خدا کا تیر ہے اور اس کا شکار در اصل خدا کا شکار ہے آنچ سے باشند خدا را از صفات خود دید در خانبال آن پاک ذات شدہ تعالٰی کی جو صفات ہیں وہ پاک ذات ان صفات کو فانی فی اللہ لوگوں میں خود پھونک دیتا ہے۔ وئے بھی گرد و در ایشان آشکار از جمال جانه جلال کردگار خدا کی صفات ان سے ظاہر ہونے لگتی ہیں خواہ وہ جمالی ہوں یا جلالی طری شان نطرف خدا ہم قریشان تفریق گردو نہ بچوں دیگراں : ات کا لطف خدا کا لطف ہے اور ان کا قہر خدا کا قہر ہو جاتا ہے دوسروں کی طرح ان کا معاملہ نہیں ہے۔ انیان هستند از خود دور تر یوں ایک کارکن از دادگر بیہ خانی لوگ اپنی خودی سے بالکل دور میں وہ فرشتوں کی طرح خدا کے منصف کارندے ہیں ر فرشتہ قبض جانے نے گھر یا کرم بر نا تھا نے سے کند اگر فرشتہ کسی کی جان نکالتا ہے۔ یا کسی کمزور پر مہربانی کرتا ہے