دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 132

۱۳۲ کمال صورت و حسین انتم جمله خوبانی را کند زیر قدم حسن و خوبی میں کامل ہونے کی وجہ سے تمام معشوقوں کی جگہ اس کے قدموں میں تا بیش ہوں انبیاء گردد و نور نورش افتد بر همه نزدیک و دور اس کا پیر و نورانیت کی وجہ سے پیار کی طرح ہو جائے اس کی روشنی دور و نزدیک سب پر پڑے شیرین پر سیلیت از رب جلیل دشمنان پشیش چو روباه دلیل نی یا تعالی کی طرف سے سچائی کا پر ہیبت شیر ہو۔ تمہیں اس کے سامنے ذلیل لومڑی کی طرح ہوں دن ان منی شیر سے بو د شهوت پرست ہوش کئی ایسے رویے نا چیز پست کیا ایسا شہر شہوت پرست ہوا کرتا ہے ۔ اسے ذلیل و حقیر لومڑی ہوش میں آ چیستی اے کو یک فطرت تباہ طعنہ پر خوباں بدیں روئے سیاہ ے ذلیل بر نظرت اندھے تو کیا ہے؟ اس کا سے منہ کے ساتھ حسینوں پر طعنہ نہ کی کرتا ہے شهوت شان از سر آزادی است نے اسیر آن پو تر آن توهم مست ان هاشان دہی کی شہرت آزادی کی بنا ی کی بنا پر ہے۔ تیری طرح شہوت کے قیدی نہیں ہیں خود نگر کئی آس کیسے زندانی است ق وان دگر دار و غیره سلطانی است تو آپ غور کرے کہ ایک شخص تر قیدی ہے اور دوسرا شخص شاہی دار دونہ جیل اپنے گر چه در کجاست هر دو را قرار ایک فرقے بہت دوری آشکار آشکار اگرچہ ان دونوں کی رہائشی ایک ہی جگہ ہے لیکن دونوں کا فرق ظاہر ہے کار پاکان بپریدان کردن قیاس کار نا پاکان بود اسے بد حواس وکوں کی باتوں کا ہوں پر پچاس کرنا۔ اسے بعد اس یہ ناپاکوں کا کام ہے