دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 116

اور نہ روئے نگار نیست نہاں ہر حجا بے وقت اسے بیجاں ہر ورنہ محبوب کا چہرہ تو چھپا ہوا نہیں ہے اسے مردہ دل جو بھی پردہ ہے وہ خو د تیری طرف سے ہے اد رگ جاں قریب تر یار است برنده از تو درازی کا راست یار تو شاہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے محض تیری بیہودگی نے بات لمبی کر دی ہے هر که بر خواست از خودی یکبار خود نشیند بکار او دا دارا داره جو ایک دم اپنی خودی سے الگ ہو جاتا ہے تو خدا تعالٰی اس کا کام خود سنبھال لیتا ہے۔ حتی و قیوم و قادر است نگار تو تو مپندار مروہ اسے فرمانی وه محبوب توحی و یقوم اور قادر ہے۔ ایسے ذلیل انسان تو اسے مردہ نہ سمجھے میل رفتن گرست جانب بار جانب صدق را عزیز بدار شوق ہے تو رہتی کے پہلو کو مقدم رکھ اگر مجھے یار کی طرف جانے کا شوق اور شکے بہت خیز و تجربه کن تا شکوت بر آورم از من اور اگر کچھ شبہ ہے تو اٹھ اور تجربہ کرلے تاکہ میں ترے شکوک جڑ سے نکال پھینکوں گر خرد پاک از خطا بود سے ہر خود مند با خدا بودے اگر عقل غلطی سے پاک ہوا کرتی۔ تو چاہیے تھا کہ ہر عقلمند با خدا ہوتا کسی نیست از در هال و سهود خطا خطا جز خداوند عالم الاشياء کوئی بھی بھول چوک اور غلطی سے بچا ہوا نہیں سوائے ہیں خدا کے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ نظرے کنی ز روئے استقرار کر کے رستہ است باز نما تو استقرار کی رو سے غور کرے اگر کوئی ان باتوں سے بچا ہے کو تو ہی بتا دے له استقراء : چند افراد پر تجربہ کر کے سب لوگوں پیروی قاعدہ نافذ کرنا