دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 114

ما کے دیز پسند و زود که آن اکبر شهرت یافت از فقیل بشر فضل اس امر کو کس طرح تسلیم کرسکتی ہے کہ خدا نے انسان کے طفیل ساری شہرت حاص کے حاصل کی ہے کی شت ماه است دوشت و سیمر دال چون بخوابی فضیلت اسے نادال قلت اسے اندھیری رات ہے مشکل ہے اور درندوں کا ڈر اسے نادال پھر تو کیوں غفلت کی نیند سو رہا ہے خیر و بر حال خود نگاه بکن خطر ماه ببین و اٹھ اور اپنے حالی پر نظر کر راستہ کے خطرات دیکھ اور نہیں پھر و آه بکن نیزه از نفس خود بپرس نشان که چه خواهد مراتب عرفان سے ہی یہ بات پوچھ کہ وہ معرفت کے کیسے کیسے درجے پاگیا ہے۔ اپنے نفس سے اللہ اور اپنے سے پیداز برای رفع حجاب یا قیامش لبس است در هر باب زیادہ حجاب دور ہونے کے لیے تڑپ رہا ہے یا ہر بات میں وہ قیاس کو کافی سمجھتا ہے انا برون گفت شما نیز و در نفس یو تعطش ها خدا نے اخلا تبصرون فرمایا ہے اٹھ اور اپنے نفس کی پیاس کی حقیقت معلوم کر تو اسیری بعد ہزار خطا ہر خطائے ببر ز از دریا تو لاکھوں غلطیوں میں گرفتار ہے اور ہر غلطی از دموں سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ مجید ایک کو ریاست بے بصری کہ انہیں کا یہ خام بے خبری یہ اندھا بھی اور نا بیائی عجیب طرح کی ہے کہ تو اس کچھی بات سے بھی بے خبر ہے یاست ار و خطاست تو نه فهمی سخن خطا اینجاست استریا بات کچھ ہے غلط نہیں ہے غلطی یہ ہے کہ تو بات کو نہیں سمجھتا