دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 112

۱۱۲ اں مبا نکتے کو یاد آورد تا خرد نیز رو بکار آورد روند شدہ باد بار روحی، یار کی طرف سے ایک تو شیولائی یہاں تک کہ عقل بھی کام دینے لگی بار با آب خود نگار آور را تا تخیل قیاس بار آورد کنی واقعہ وہ محبوب خود پانی لایا ۔ یہاں تک کہ عقل کا درخت بار آور ہو گیا وقت پیش است و موسم شادی توجه در سوگ و بما تم افتادی یہ تو پیش کا وقت اور خوشی کا موسم ہے۔ تو کیوں ماتم اور سوگ میں پڑا ہوا ہے۔ محمد بادسے بخواه از دادار تا خس و خار تو پر دیک بار خدا تعالے سے ایک ایسی آدھی ہانگ کہ تیرا کھڑا کر کٹ میکدم اُڑ جائے اور خور و مه شکی نگیرد راه تونه دلدار خویش دیده بخواه سورج اور چاند کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوا کرتا تو اپنے محبوب سے آنکھیں بانگ گری تا دے کہ سرتابی چون بجوئی تو صدق دل یا بی تو اس وقت تک گمراہ ہے جب تک تو سرش ہے جب سچے دل سے تلاش کر یا تو ہی کو پائے گا نیستی طالب حقیقت را از بس ہمیں مشکل است ایسے انسان راز بس تو حقیقت کا کا طالب ہی نہیں ہے۔ اسے کندہ ناتراش یہی تو مشکل ہے بر و جوش و صنعت استدلال این مجاز است نے جو اصل صال خدا کے وجود پر اس کی صنعتوں سے استدلال کرنا صرف مجاز ہے نہ کہ سچا پھل ۔ ملش از آله مجازی نیست اد کن دیدہ جائے بازی نیست اس کا وصل مجازی ذریعہ سے نہیں ہوا کرتا۔ آنکھیں کھول یہ مذاق نہیں ہے