دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 109
پس چریک پیش و دیگر اسٹ کے پچھتیں در قبول فیض ہے میں جب ایک زیادہ اور دوسراکم ہے تو اس طرح تین خداوندی کے قبول کرنے میںبھی ان کے مدارج ہیں خود رکن کو زندگی و مقام کہ چہ ثابت ہے شود زینجا اب صدق و صفا کے ساتھ خود دیکھ ہے کہ اس سے کیا ثابت ہوتا ہے شر است مسنون بیش از پیش از مسیر خود در دی مده سر خویش تعمیر کی رات ہے اور رات بہت زیادہ ہے خود روی کی وجہ سے کہیں اپنا سر نہ دے دیا پس دیوار چوں نے دانی پول برای غیوب ربانی جب تو دیوار کے پیچھے کی چیز نہیں جانتا پھر رقیب خداوندی کو کیونکہ جان سکتا ہے در شگفتم که با چنین نقصاں ان چہ ہر نقل سے شنوی نازاں میں حیران ہوں کہ باوجود اس قدر نقص کے تو عقل پر کسی وجہ سے نازاں ہے اینچه عقل است و اینچه معرفت است اینچه قهر خداد و حشمت بست کیسی عقل اور کیسی معرفت ہے خدا کا یہ کیسا تر ہے کہ جس نے تیری آنکھیں بند کر دی ہیں این جهانت پور عید خوش افتاد و آن و مجید خدا نداری یاد تجھے یہ جہان عید کی طرح پسند آگیا اور خداوند کی سزا تجھے یاد نہ رہی بشنو انه وحی حق چه گوید راز از جناب وحید و بے انباز خدا کی وحی کو سن کہ کیا راز بیان کرتی ہے خدائے وحدہ لا شریک کی طرف سے کان خرد با که در دل علامت همه یک ذره از آتش است یلی یہ سب میں چود دانشمندوں کے دلوں میں ہیں یہ سب ہماری آگ کی ایک چنگار کی ہیں