دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 107

در نه این و خوبی خط بگذار که رونم زیر حکیم آن دادار ور نہ اس غلط دورے کو ٹک کر کر میں خدا کے حکم کے ماتحت چل رہا ہوں خود از را حکم رو راشیان از خودی را آن دیگر خداست اسے نادال ورد اپنی مرضی سے حکم حکم گھڑ گھڑ لیتا لیتا اسے نادان یہ کر خدا کا حکم نہیں ہو سکتا د بری است و نه معقل روان که شود من خویش حکم خدا نے عرفت اور مقبل دونوں کی گود سے یہ بچا کر نہیں کہ اپنا ظن خدا کا حکم بن جائے حکم کو آن بود که او فر مورد پس چه فرمود خود نگه کن زود اس کا حکم کو وہ ہے جو خود اس نے دیا اور جب وہ حکم دے دے تو فوراً توجہ کر کہ انہیں شد ثبوت وحی خدا شد ضرورت مستمش نہیں جا میان اس بات سے خدا کی دی کا ثبوت کہا ہے کسی دلیل سے خود اس کی ضرورت بھی ثابت ہوتی ہے اگر گر و ہندت بصیرت دینی در گمانها بلاک خود بینی کر تجھے دینی معرفت نصیب ہو تم تو گمان میں اپنی ہلاکت بنگر اتو منقل و فکر و قیاس که خود را نه محکم است اساس را نه محکم است عقل فکر اور قیاس سے دیکھ تو سہی کہ عقل کی بنیاد مضبوط نہیں ہے نا نباشد رفیق او دگرے ناپدیش انہ یہ یقیں خبرے از رو جب تک دوسرا اس کا رفیق نہ بنے تب تک اس کو یقین کی راہ کی خبر نہیں ملتی کا کی ن مینی پدید ہا جائے ! ق یا نہ یا بی خبر زبنائے ہے ہیں تو کسی جگہ کا اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیا یا کسی دیکھنے والے سے اس کی خبرنہیں پا لیتا