درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 52
بجنگ و حرب گزارند هر دمی که بود که تا حفاظت مردم از فتنه ها باشد ke taa hefaazate mardom ze fetne-haa baashad bajaNgo harb gozaaraNd har damey ke bowad وہ اپنا ہر سانس جنگ اور لڑائی میں گزارتے ہیں تا کہ فتنوں سے لوگوں کی حفاظت ہو بخیر و عافیت بگذرد شب اندر خواب که پاسبانی ایشاں بصد عنا باشد ke paasbaani'ee eeshaaN besad 'inaa baashad bakhairo 'aafeyatat begzarad shab aNdar khaab تیری رات آرام سے نیند میں بسر ہوتی ہے اس لئے کہ وہ بڑی دردمندی سے تیری پاسبانی کرتے ہیں L غلام ہمتِ مردانِ کارزار بباش که امن مرد و زن از مردم و غا باشد gholaame hem-mate mardaane kaarzaar bebaash ke amne mardo zan az mardome waghaa baashad تو اُن مردانِ کارزار کی ہمت کا غلام بن جا کہ مردانِ جنگ کے طفیل ہی عورتوں اور مردوں کو امن حاصل ہوتا ہے پناہ بیضہ اسلام آں جوانمردی ست کہ خوں بدل زینے دین مصطفی باشد ke khooN bedil ze pa'i deene Mostafaa baashad panaahe baize'ee Islaam aaN jawaanmardeest ازیں وہی جوانمرد دینِ اسلام کی پشت و پناہ ہوتا ہے جس کا دل دین مصطفیٰ کے لئے خون ہوتا ہے بود که همه اهل و نیک طینت را سر نیاز بدرگاه شمال فرا باشد azeeN bowad ke hame ahlo neek teenat raa sare neyaaz bedargaahe shaaN faraa baashad یہی وجہ ہے کہ سب لائق اور نیک فطرت لوگوں کا سر عاجزی سے ان لوگوں کی درگاہ پر جھکا رہتا ہے مردان کار زار سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو دین کے پھیلانے کے بہانے سے خلق خدا پر تلوار اٹھاتے قتل کرتے اور ایک جہان کو مصیبت میں ڈالتے ہیں بلکہ ایسے لوگ جن کے پاس دین کے پھیلانے کے لئے صرف تلوار ہے در حقیقت درندوں کی طرح ہیں اور کسی تعریف کے لائق یہ لوگ نہیں ہیں۔ کیونکہ ناحق بہیجا خونریزی کر کے مخالفوں کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں۔ بلکہ اس جگہ مردان کا رزار سے مراد وہ با خدا مرد ہیں جن کو خدا تعالی کی طرف سے مجزہ نمائی کی طاقت ملتی ہے اور اعلی دلائل عطا کئے جاتے ہیں۔ اور خدا تعالی کی کتاب کا علم عطا کیا جاتا ہے سو وہ دلیل اور برہان سے منکروں کو ملزم کرتے ہیں اور اس طرح پر میدان مباحثات میں فتح نمایاں پاتے ہیں۔ 391