درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 48

ہزار سر زنی و مشکلی نه گردد حل چو پیش او بروی کار یک دعا باشد choo peeshe oo berawi kaare yek do'aa baashad hazaar sar zani wa moshkeley na gardad hal تو ہزار ٹکریں مارتا رہے مگر تیری مشکل حل نہیں ہوتی لیکن جب تو اس کے سامنے جاتا ہے تو اس کی ایک دعا کافی ہوتی ہے چو شیر زندگی او بود دریں عالم ز صید او دگرانرا همه غذا باشد choo sheer zindagi'e oo bowad dareeN 'aalam ze saide oo degar-aaNraa hame ghezaa baashad اس جہان میں اس کی زندگی شیر کی زندگی کی طرح ہوتی ہے یعنی دوسروں کو اس کے شکار سے غذا میسر آتی ہے گہے نشاں بنماید ز بر دین قویم گہے بمعرکہ جنگش باشقیا باشد gahe bema'reke jaNgash ba-ashqeyaa baashad gahe neshaaN benmaayad ze behre deene qaweem کبھی وہ دین اسلام کی خاطر نشان دکھاتا ہے اور کبھی بدبختوں کے ساتھ اسے لڑائی کا معرکہ پیش آتا ہے بود مظفر و منصور از خدائی کریم از معضلات شریعت گره کشا باشد az mo'az-zalaate sharee'at gereh koshaa baashad bowad mozaf-faro mansoor az khodaa'ey Kareem وہ خدائے کریم کی طرف سے مظفر و منصور ہوتا ہے اور شریعت کی مشکلات کو حل کرنے والا ہوتا ہے ز میر یار ازل بر رخش بارد نور از شان حضرت اعلی درو ضیا باشد ze mehre yaare azal bar rokhash babaarad noor ze shaane hazrate a'laa daroo zeyaa baashad اُس یا راز لی کی محبت کا نور اس کے چہرہ سے برستا ہے اور اس عالی جناب کی شان کی اس میں چمک ہوتی ہے لے جنگ سے مراد تلوار بندوق کا جنگ نہیں ۔ کیونکہ یہ تو سراسر نادانی اور خلاف ہدایت قرآن ہے جو دین کے پھیلانے کے لئے جنگ کیا جائے بلکہ اس جگہ جنگ سے ہماری مراد زبانی ہیں جو نرمی اور انصاف اور معقولیت کی پابندی کے ساتھ کئے جائیں۔ ورنہ ہم ان تمام مذہبی جنگوں کے سخت مخالف ہیں جو جہاد کے طور پر تلوار سے کئے جاتے ہیں۔ ان مباحثات 387