درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 46

ام صعود او ہمہ سُوئے فلک بود ہر دم وجود او ہمہ رحمت چو مصطفی باشد sa'oode oo hame soo'ey falak bowad har dam wojoode oo hame rehmat choo Mostafaa baashad اُس کی پرواز ہر وقت آسمان کی طرف ہی ہوتی ہے اور اُس کا وجود مصطفیٰ کی طرح سراسر رحمت ہوتا ہے خبر دهد از قدومش خدا بمصحفِ پاک هم از رسول سلامے بصد شنا باشد khabar dehad za qodoomash khodaa bemoshafe paak ham az rasool salaamey basad sanaa baashad خدا اُس کی تشریف آوری کی خبر قرآن مجید میں دیتا ہے اور رسول کی طرف سے بھی سینکڑوں شنا اور سلام بھیجے جاتے ہیں متابد از ره جانان خود سر اخلاص اگر چه سیل مصیبت بزورها باشد nataabad az rahe jaanaan-e khod sare ikhlaas agarche saile moseebat bazoor-haa baashad وہ اپنے معشوق کی راہ میں کبھی اخلاص میں کمی نہیں آنے دیتا۔ خواہ مصیبتوں کا طوفان کتنے ہی زوروں پر ہو براہ یار عزیز از بلا نه پرهیزد اگرچه در ره آن یار اژدها باشد baraahe yaare 'azeez az balaa na parheezad agarche dar rahe aaN yaar aydahaa baashad اُس عزت والے دوست کی راہ میں وہ کسی بلا سے نہیں ڈرتا خواہ اُس یار کے راستے میں اثر رہا بیٹھا ہو کند حرام همه عیش و خواب را بر نفس چو جمله عارف و عامی دریں بلا باشد choo jomle 'aarefo 'aami dareeN balaa baashad konad haraam hame 'aisho khaab raa bar nafs وہ نیند اور عیش کو اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جبکہ سب نیک و بد اس عیش و عشرت کی بلا میں گرفتار ہوتے ہیں 385