درثمین فارسی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 378

درثمین فارسی (جلد دوم) — Page 44

61 غریق ورطه بحر محبت نه بر مهرش نظر باشد نه بر کیں na bar mehrash nazar baashad na bar keeN ghareeq-e warte-ye bahr-e mahabbat بحر عشق کے بھنور میں غرق ہونے والے کو نہ اُس کی محبت پر نظر ہوتی ہے نہ غصہ پر بگوش عاشق از لبہائے دلدار بچناں نفریں عزیز آید کہ تحسیں chonaaN nafreen 'azeez aayad ke tehseeN bagoosh-e 'aasheq az lab-haa'ey dildaar دلبر کے ہونٹوں سے عاشق کے کانوں میں ملامت بھی ویسی ہی پسندیدہ ہے جیسے کہ شاباش چناں رویش خوش افتد از سر عشق که قربان می کند بر وے دل و دیں e qorban mey konad bar wai dil-ochonaan rooyash khosh oftad az sar-e 'ishq عشق کی وجہ سے محبوب کا چہرہ اتنا دلپسند ہوتا ہے کہ وہ اس پر اپنا دل اور دین قربان کر ڈالتا ہے شب و روزش به دلبر کار باشد دل و جانش شود آن یار شیریں dil-o jaanash shawad, aaN yaar-e sheereeN shab-o roozash, be dilbar kaar baashad دن رات اُسے دلبر سے ہی کام رہتا ہے اور وہ پیارا دوست اُس کا دل اور جان بن جاتا ہے بسوزد هر چه غیر یار باشد ہمیں این عشق را رسم است و آئیں hameen een ishq raa rasmast-o aa'een besoozad har che ghair-e yaar baashad جو بھی یار کے سوا ہو عاشق سب کو جلا دیتا ہے اس عشق کی یہی رسم ہے اور یہی طریقہ )1901 ام 15-17 اکتوبر 383