درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page vi
عرض حال نگاه رحمت جانان عنایتها بمن کردست وگرنہ چوں منے کے یا بد آن رشد و سعادت را (روحانی خزائن جلد 5 آئینہ کمالات اسلام صفحه 56) محض اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے رجل فارس حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے پر معارف فارسی کلام کی تھوڑی سی خدمت کی سعادت نصیب ہوئی ۔ جس کے لئے شکر کا اظہار میری آنکھوں اور زبان کے بس کی بات نہیں۔ الحمد للہ الحمد لم لله الحمد لله رب العلمین خاکسار حضرت خلیفة اصبح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نہ دل سے شکر گزار ہے جنہوں نے کلام طاہر، درشین اردو، کلام محمود اور بخار دل کی تیاری کے بعد دعا اور اعتماد کا مضبوط سہارا دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فارسی کلام کے نا پیدا کنار بحر عرفان کے سپرد فرما دیا۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ احسن الجزا آپ کا ارشاد گرامی موصول ہوتے ہی اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اس شیریں کلام کی غیر معمولی چاہت اور جوش و جذبہ پیدا کر دیا اور سلطان نصیر بھی عطا فر ما دیے جس کی وجہ سے سب کام اس طرح ہوا جیسے ہر گام پر فرشتوں کا لشکر ساتھ ساتھ ہو۔ الحمد للہ علی ذالک سب سے پہلے ان بزرگانِ کرام کے لئے دل سے دعا نکلی جنہیں اپنے اپنے وقت پر اپنے اپنے رنگ میں اس بابرکت کلام کی خدمت کی توفیق ملی ۔ یہ علمی ورثہ ان کی طرف سے صدقہ جاریہ ہے۔ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کا سہلِ ممتنع اردو تر جمہ حسن و خوبی کا ایک نادر نمونہ ہے۔ آپ کے ترجمہ کی اشاعت لجنہ کراچی کے لئے اس لئے بھی خوشی کا باعث ہے کہ آپ کے تمام رشحات قلم کو از سرِ نو زندہ کرنے کے منصوبے میں ان کے فارسی در مشین کے ترجمے کی اشاعت کا اضافہ ہو گیا ہے۔ پھر حضرت عبد الحق رامہ صاحب کے چنیدہ محاسن سے کتاب کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔ فجز اھم اللہ تعالیٰ احسن الجزا مددملی فجر زیر نظر مجموعہ کلام کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی حیات مبارکہ میں طبع ہونے والی اصل کتب کے چند الفاظ جو بعد میں سہو کتابت کے احتمال سے تبدیل کرتیں کر دئے گئے تھے ان میں سے ہر ایک حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی تحقیق اور فیصلے کے مطابق درست کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا طرز تحریر من و عن حضرت اقدس علیہ السلام کے زمانے کا رکھا گیا ہے۔ الفاظ میں مناسب فاصلہ رکھ کر کھلا کھلا لکھوایا گیا ہے تا کہ قارئین کو پڑھنے میں آسانی ہو۔ ابتدا میں سارے الہام شانِ نزول کی ترتیب سے یکجا کئے گئے ہیں۔ III