درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page iv
پیش لفظ بفضلہ تعالیٰ لجنہ اماء اللہ ضلع کراچی صد سالہ جشن تشکر کی خوشی میں دینی و علمی کتب کی مسلسل اشاعت کی توفیق پا رہی ہے۔ دریمین فارسی مع نقل صوتی ( ٹرانسلٹریشن ) ، اُردو ترجمہ اور فرہنگ ہمارے سلسلے کی ننانوے ویں کڑی ہے۔ الحمد لله ثم الحمد للہ۔ خاکسار اس انمول کتاب کی پیشکش پر اظہار تشکر تو کر سکتی ہے پیش لفظ کیا لکھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ہر تحریر کا پیش لفظ تو حسن الحدیث نازل کرنے والے خدائے رحمان نے خود لکھ دیا ہے۔ جس نے اپنے سلطان القلم کو قلم اور کلام کی اعلی ترین خوبیاں ودیعت فرمادیں ۔ ارشاد خداوندی ہے وو یا احمد فاضت الرَّحْمَة على شفتيك - كلام افصحت مِن لَّدُن رب کریم در کلام تو چیزیست که شعرا را در آن دخلی نیست۔ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری ہے۔ تیرا کلام خدا کی طرف سے فصیح کیا گیا ہے تیرے کلام میں ایک چیز ہے جس میں شاعروں کو دخل نہیں ۔“ (حقیقة الوحی صفحہ 102 روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 105,106 ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اس الہی نعمت کی قدر دانی میں اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں صرف کرتے ہوئے اردو عربی فارسی زبانوں میں نثری نظم ہر ڈھب اور اسلوب سے اپنے قلب مطہر پر جلوہ گر ہونے والے پیارے زندہ خدا کا چہرہ دکھاتے رہے ۔ یہی عشق ہر طرف نور بار نظر آتا ہے ۔ فرماتے ہیں اشعار میں اپنے مضمون کو بیان کرنے کی ضرورت ہمیں اس لئے پیش آئی کہ بعض طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ ان کو نثر عبارت میں ہزار پیرایہ لطیف میں کوئی صداقت بتائی جائے وہ نہیں سمجھتے لیکن اسی مفہوم کو اگر ایک برجستہ شعر میں منظوم کر کے سنایا جاوے تو شعر کی لطافت بہت کچھ اس پر اثر کر جاتی ہے شعر سن کر پھڑک اٹھتے ہیں اور حق کو شعر کے ذریعے فوراً قبول کر الحکم قادیان 28 اگست تا 7 ستمبر 1938 صفحه (2) لیتے ہیں ۔ اگر از روضه جان و دلم من پرده بردارند به بینی اندران آن دلیر پاکیزه طلعت را (روحانی خزائن جلد 5 آئینہ کمالات اسلام صفحہ 56) ر ( ترجمہ ) اگر میرے جان و دل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو تو اس میں محبوب کا پاکیزہ خوبصورت چہرہ دیکھے گا۔ I