درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 113
جہاں رائے شخصی بگردد بلند که طغیان نفش بگردن فکند chesaan raa'ey shakhsey begardad bolaNd ke toghyaane toghyaane nafsas nafsash begardan اس شخص کی رائے کیونکر قابل عزت ہو گی جس کو اس کے اپنے نفس کے جوش نے پچھاڑ رکھا ہو دل پاک و جولان فکر و نظر دو جوهر بود لازم یک دگر dile paako jaulaane fikro nazar do jauhar bowad laazeme yek degar پاک دل اور غور وفکر کی تیزی یہ دو باتیں لازم و ملزوم ہیں چو صوف صفا در دل آمیختند choo soofe safaa dar dil aameekhtaNd مداد از سواد عیول ریختند madaad az sawaade 'oyooN reekhtaNd جب لوگ پاکیز گی ڈول کا صوف دل ( کی دوات) میں ڈال لیتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی کی روشنائی اس میں ڈالتے ہیں خدا آفریدت از یک مُشتِ خاک خودت داد نان تا نگردی ہلاک khodaa aafareedat ze yek moshte khaak khodat daad naan taa nagardi halaak خدا نے تجھے خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا اور خود ہی تجھے روٹی دی تا کہ تو ہلاک نہ ہو جائے بہر حاجت گشت حاجت روا کشور از ترحم دو دست عطا behar haajatat gasht haajat rawaa kashood az trah-hom do daste 'ataa تیری ہر ضرورت کا وہ خود متکفل ہوا اور رحم کر کے اپنی سخاوت کے ہاتھ تیرے لئے کھول دیئے چه پاداش بودش چنیں میدہی که در علم خود را نظیرش نہی che paadaashe joodash choneeN midehi ke dar 'ilm khod raa nazeerash nehi پھر اس کی عطا کا بدلہ کیا تو یہی دے رہا ہے کہ علم میں خود اُس کا ہمسر بنا پھرتا ہے 110