درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 88
ہست مشرک از سعادت دور تر و از فیوض سرمدی منجور تر wa-az foyooze sarmadi mahjoor tar hast moshrik az sa'aadat door-tar مشرک سعادت سے بہت دور ہے۔ اور خدا کی دائمی رحمتوں سے پرے پھینکا گیا ہے از خدا باشد خدا را یافتن نی به مکر و حیله و تدبیر و فن ne be makro heele-o tadbeero fan az khodaa baashad khodaa raa yaaftan خدا کی مدد سے ہی خدا کو پاسکتے ہیں ۔ نہ کہ چالا کی ، حیلہ اور مکر و فریب کے ساتھ تا نیائی پیش حق بچوں طفل خورد بست جام تو سراسر پُر ز درد hast jaame too saraasar por ze dord taa niyaa'i peeshe haq chooN tifle khord جب تک تو چھوٹے بچے کی طرح خدا کے سامنے نہ آئے گا۔ تب تک تیرا جام صرف تلچھٹ سے ہی بھرا رہے گا شرط فیض حق بود عجز و نیاز کس ندیده آب بر جائے فراز kas nadeedeh aab bar jaa'ey faraaz sharte faize haq bowad 'ijz-o niyaaz خدا کے فیضان کے لیے عجز و نیاز شرط ہے۔ کسی نے پانی کو اونچی جگہ ٹھہر تے نہیں دیکھا حق نیازی جوید آنجا ناز نیست از پر خود تا درش پرواز نیست az pare khod taa darash parwaaz neest haq niyaazi jooyad aaNjaa naaz neest خدا کو عاجزی پسند ہے وہاں فخر کام نہیں آتا اپنے پروں سے اس تک اڑ کر نہیں پہنچ سکتے عاجزاں را پرورد ذاتِ اجل سرکشان محروم و مردود ازل sarkashaan mahroomo mardoode azal 'aajezaaN raa parwarad zaate ajal وہ بزرگ ذات عاجزوں کی پرورش کرتی ہے۔ اور سرکش ہمیشہ محروم و مردود رہتے ہیں 85