بنیادی مسائل کے جوابات — Page 565
نفلی <mark>روز</mark>ه سوال : جامعہ احمدیہ کینیڈا کے ایک طالب علم نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ عموماً <mark>سوموار</mark> اور جمعرات کو نفلی <mark>روز</mark>ے رکھنے میں کیا حکمت ہے، نیز ان دو ایام کے علاوہ اور دنوں میں بھی نفلی <mark>روز</mark>ے رکھے جاسکتے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 مئی 2022ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: <mark>سوموار</mark> اور جمعرات کو نفلی <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> رکھنے کی مختلف وجوہات احادیث میں بیان ہوئی ہیں۔چنانچہ حضور لم نے فرمایا کہ <mark>سوموار</mark> اور جمعرات کے دن انسانوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال ایسی حالت میں پیش ہوں کہ میں <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> سے ہوں۔(سنن ترمذی کتاب الصوم بَاب مَا جَاءَ فِي صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ) اسی طرح ایک اور حدیث میں حضور اللی تم نے فرمایا کہ <mark>سوموار</mark> اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔(سنن ترمذي كتاب البر والصلة باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَهَاجِرَيْنِ) پھر ایک اور حدیث میں ہے کہ <mark>سوموار</mark> کے <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> کی بابت حضور الم سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس <mark>روز</mark> میں پیدا ہوا تھا اور اسی <mark>روز</mark> مجھ پر وحی کا نزول شروع ہوا تھا۔(صحیح مسلم کتاب الصيام بابِ اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِن كُلِّ شَهْرٍ وَصَوْمٍ يَوْمِ عَرَفَةَ وَعَاشُورَاءَ وَالاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ) <mark>سوموار</mark> اور جمعرات کو نفلی <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> رکھنا حضور ﷺ کی عمومی سنت تھی۔(سنن نسائي كتاب الصيام باب صَوْمُ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ في ذلك) اسی طرح ایام بیض یعنی ہر مہینہ میں چاند کی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو بھی حضور ام بڑی باقاعدگی کے ساتھ <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> رکھا کرتے تھے۔(سنن نسائي كتاب الصيام صَوْمُ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ) علاوہ ازیں یوم عرفہ ( نو ذی الحجہ ) اور یوم عاشوراء (دس محرم) کے <mark><mark>روز</mark>ہ</mark> کی بھی حضور ا ہم نے بڑی فضلیت بیان فرمائی ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصیام بَاب اسْتِحْبَابِ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ 565