صحیح بخاری (جلد نہم) — Page iii
بسم الله الرحمن الرحيم پیش لفظ الحمد لله ثم الحمدللہ صحیح بخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی نویں جلد مکمل کرنے کی توفیق ملی۔یہ جلد کتاب المغازی غزوۃ خیبر سے آخر مغازی تک کے حصہ پر مشتمل ہے۔آنحضور ملی یہ کام کے خلق عظیم کا روح پرور تذکرہ مغازی کے ان ابواب میں پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔غزوات میں آنحضرت صلی للی کم کی اُن استعدادوں کا پتہ چلتا ہے جو ایک عظیم سپہ سالار کی حیثیت سے اس شان سے ابھر کر سامنے آتی ہیں کہ دیکھنے والے کی نظر کو خیرہ کر دیتی ہیں۔تعجب سے نگاہ اس حیرت انگیز وجود کو دیکھتی ہے جو اول و آخر ایک مصلح تھا جسے جنگ سے کوئی سروکار نہ تھا۔لیکن جب حالات کی مجبوری نے اُسے جنگ کے میدان میں لاکھڑا کیا تو اس میدان میں بھی سیادت کی ایسی نرالی شان اُس سے ظاہر ہوئی جو معجزہ سے کم نہیں۔جنگوں کے دوران آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کو عام دنیا کے جرنیلوں کے پیمانوں سے ناپنا آپ کے شایانِ شان نہیں۔آپ تو میدانِ روحانیت اور کارزار اخلاق کے سپہ سالار تھے۔آنحضور صلی الہ وسلم کی جنگ در حقیقت تیروں، تلواروں، نیزوں اور برچھوں کی جنگ نہیں تھی بلکہ تائید الہی اور نصرت ربانی سے لڑی جانے والی یہ جنگ نفس اور ضبطِ نفس کی جنگ تھی۔یہ جنگ رضائے خویش اور مرضی خدا کی جنگ تھی۔بلا شبہ نفس انسانی کا اس موقع پر ایسا قتال ہوا کہ ہر طرف کشتوں کے پشتے لگ گئے۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے بارہا گرتے ہوئے صحابہ کو سنبھالا اور لڑکھڑاتے ہوئے جسموں کو سہارا دیا۔یہ آپ ہی تھے جنہوں نے اکھڑتے ہوئے قدموں کو ثبات بخشا اور گرتی ہوئی ہمتوں کو اُبھارا۔آپ نے دلوں کو ڈھارس دی تو دل سنبھلے۔آپ نے حوصلہ دلایا تو حو صلے پیدا ہوئے۔وہ صحابہ جنہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم تیرے آگے بھی لڑیں گے ، تیرے پیچھے بھی لڑیں گے۔تیرے دائیں بھی لڑیں گے اور تیرے بائیں بھی لڑیں گے۔ان جنگوں میں خدا کا یہ برگزیدہ رسول اُن کے آگے بھی لڑ رہا تھا۔اُن کے پیچھے بھی لڑ رہا تھا، اُن کے دائیں بھی لڑ رہا تھا اور اُن کے بائیں بھی لڑ رہا تھا۔میدانِ اخلاق کا یہ بے مثل شہ سوار جنگوں کی مہیب گھڑیوں اور کٹھن مراحل میں ایک نئی شان اور نئی آن بان کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔اللَّهُمَّ صَلِ وَسَلّمْ وَبَارِك عَلَيْهِ وَآلِهِ بِعَدَدِ هَيْهِ وَغَيْهِ وَحُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَأَنْزِلْ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ جزاهم الله تعالى احسن الجزاء