صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 59
صحيح البخاری جلد 4 ۵۹ ۵۹- كتاب بدء الخلق عَائِشَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ ابن شہاب نے کہا: عروہ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا صلى الله علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا: کیا آپ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ پر کوئی ایسا دن آیا جو احد کے دن سے زیادہ سخت ہو؟ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ آپ نے فرمایا: میں تمہاری قوم سے جو تکلیفیں اُٹھا چکا أُحُدٍ قَالَ لَقَدْ لَقِيْتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا ہوں، اُٹھا چکا ہوں۔اور سب سے زیادہ تکلیف جو میں لَقِيْتُ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيْتُ مِنْهُمْ يَوْمَ نے ان سے اُٹھائی، عقبہ کے دن تھی۔جب میں نے الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ اپنے آپ کو ( کنانہ ) بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے عَبْدِ يَالِيْلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي سامنے پیش کیا (جو طائف کا رئیس تھا ) پھر جو میں نے إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ وَأَنَا مَهْمُومٌ چاہا، اس نے نہ مانا (یعنی اسلام نہ لایا ) اس پر میں چل دیا اور میں غمگین تھا۔میری یہ حالت دور نہیں ہوئی تھی۔عَلَى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقُ إِلَّا وَأَنَا مگر اس وقت کہ جب میں قرنِ ثعالب (مقام) میں بِقَرْنِ التَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا پانچ گیا۔میں نے سراٹھایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بدلی بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ فَإِذَا ہے جس نے مجھ پر سایہ کیا ہوا ہے۔میں نے غور سے ہے فِيْهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي فَقَالَ إِنَّ اللهَ قَدْ دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں جبریل ہیں۔انہوں سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا نے مجھے پکار کر کہا: جو تیری قوم نے تم سے کہا ہے اور عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ إِلَيْكَ مَلَكَ جو کچھ تمہیں جواب دیا ہے وہ اللہ نے سن لیا ہے اور الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ اللہ نے تمہارے پاس پہاڑوں کے فرشتے کو بھیجا ہے کہ تم ان کے متعلق جو کچھ بھی چاہو، اسے حکم دو۔پھر فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ثُمَّ مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے پکارا۔مجھے سلامتی کی دعا قَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ ذَلِكَ فِيْمَا شِئْتَ دی اور کہا: محمد ! میں اس لئے آیا ہوں کہ اگر تم چاہو تو ! إِنْ شِئْتَ أَنْ أَطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ میں ان پر یہ دونوں پہاڑ آپس میں ٹکرا کر انہیں تباہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ کردوں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ