صحیح بخاری (جلد ششم) — Page iii
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پیش لفظ الحمد لله ثم الحمد لله بخاری ترجمه و شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ نہ کی چھٹی جلد طبع ہوگئی ہے۔یہ جلد كِتَابُ بَدْءِ الْخَلْق اور كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاء پرمشتمل ہے۔امام بخاری نے مخلوق کی پیدائش سے آغاز کر کے فرشتوں اور انبیاء کا ذکر کیا ہے۔امام بخاری کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان ابواب میں آنحضرت ﷺ کے مقام وشان کو بیان کرنا چاہتے ہیں۔فقہ البخاری فی تراجمہ یعنی بخاری کے ابواب کا تفقہ اور علم بخاری پڑھنے والوں سے مخفی نہیں۔بخاری کے ابواب کے قیام میں امام بخاری کے علم لدنی ، قرآن کریم کے گہرے عرفان اور علم حدیث کی بصیرت اظہر من الشمس ہے۔امام بخاری احادیث رسول کو قرآن کریم کے تابع رکھنے کا جابجا التزام کرتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے ارشادات جو وحی الہی کی روشنی میں آپ کے لبوں سے جاری ہوئے وہ اس حوض کوثر کا فیض ہے جو زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے۔یہ وہ شجرہ طیبہ ہے جو ہمیشہ تروتازہ اور سدا بہار رہتا ہے۔اس کی جڑیں محبت الہی میں پیوست اور شاخیں آسمان روحانی سے ہم کلام ہیں۔آپ ہی وہ خضر راہ ہیں جس کی ہدایت و روشنی کبھی مانند نہیں پڑتی۔امام بخاری نے اس حصہ میں ابواب کے عناوین کے انتخاب اور حسن ترتیب سے اس گلستان کی جس طرح سیر کرائی ہے اس کی خوشبو اور لطافت کو وہی پاسکتا ہے جو خود اس بوستان کی سیر کے خوشگوار تجربہ سے گذرے۔مجھے امید ہے کہ اس حصہ کا ترجمہ و شرح پڑھنے والوں کے دل سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے لیے بھی بے اختیار دعائیں نکلیں گی جنہوں نے قرآن کریم اور حدیث کے ان معارف کو نہایت لیاقت، خوبی ،حسن بیان اور حسن ادا سے اس طرح احاطہ تحریر کیا ہے کہ قاری محبت الہی اور عشق رسول کی حلاوت پاتا ہے۔فجر الهما الله احسن الجزاء فجزاهم الله احسن الجزاء