صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 234 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 234

صحيح البخاری جلد 4 ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله نے محمد بن سیرین ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ عَنْهُ قَالَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت السَّلَامُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ ابراہیم علیہ السلام نے تین باتوں کے سوا خلاف واقعہ نہیں کہا۔ان میں سے دو تو اللہ عز وجل کی ذات کے مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَوْلُهُ: بارے میں یعنی ان کا یہ کہنا کہ ”میں بیمار ہوں اور ان إنِّي سَقِيمُ (الصافات:(٩٠) وَقَوْلُهُ: بَلْ کا یہ کہنا بلکہ ان میں سے بڑے نے یہ کیا ہے اور فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا (الأنبياء: ٦٤) آپ نے فرمایا: اسی اثنا میں وہ اور حضرت سارہ ظالموں وَقَالَ بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمِ وَسَارَةُ میں سے ایک ظالم کے ملک میں آئے اور اسے بتایا گیا إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ فَقِيْلَ کہ یہاں ایک مرد ہے جس کے ساتھ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت ہے۔اس نے ان کو بلا بھیجا اور سارہ لَهُ إِنَّ هَاهُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ کی بابت ان سے دریافت کیا۔پوچھا: یہ کون ہے؟ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا حضرت ابراہیم نے کہا: میری بہن۔پھر حضرت ابرا ہیم فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ أُخْتِي فَأَتَى سَارَةَ حضرت سارہ کے پاس آئے۔کہا: سارہ ! روئے زمین قَالَ يَا سَارَةُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ پر میرے اور تمہارے سوا اور کوئی مومن نہیں اور اس شخص مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي نے مجھ سے تمہارے متعلق پوچھا: میں نے اسے بتایا کہ عَنْكِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَلِّ بَيْنِي تم میری بہن ہو اس لئے تم مجھے نہ جھٹلانا۔اس ظالم نے سارہ کو بلا بھیجا۔جب وہ اس کے پاس اندر گئیں وہ ان فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ کو اپنے ہاتھ سے پکڑنے لگا مگر وہ جکڑا گیا۔کہنے لگا: يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ فَأُخِذَ فَقَالَ ادْعِي الله میرے لئے اللہ سے تم دعا کرو اور میں تمہیں نقصان نہیں لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتِ اللهَ فَأُطْلِقَ پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ نے اللہ سے دعا کی اور وہ ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ چھوڑ دیا گیا۔پھر اس نے ان پر دوسری مرتبہ ہاتھ ڈالا اور وہ پھر اسی طرح یا اس سے بڑھ کر سختی سے جکڑا گیا۔أَشَدَّ فَقَالَ ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضْرُّكِ کہنے لگا: میرے لئے اللہ سے تم دعا کرو اور میں تمہیں فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔حضرت سارہ نے دعا کی اور وہ فَقَالَ إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ إِنَّمَا چھوڑ دیا گیا۔پھر اس نے اپنے بعض در بان بلائے اور