صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 601
البخاري - جلدم الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔۶۰۱ ۵۰ - كتاب المكاتب نے (حضرت عائشہ سے) فرمایا: (ان کی ) یہ بات تمہیں نہ روکے۔کیونکہ حق وراثت تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔اطرافه ٢١٥٦، ٢١٦٩، ٢٧٥٢، ٦٧٥٧ ٦٧٥٩۔ریح: مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ فقہاء نے صحت عتق و مکاتبت کے بارے میں کچھ شرطیں عائد کی ہیں۔ان میں سے بعض کا تعلق مکاتب یعنی مالک سے ہے اور بعض کا تعلق مکاحب یعنی اس غلام اور لونڈی سے جو آزادی کے خواہاں ہوں اور بعض کا عقد مکاتبت کی صحت یا عدم صحت سے۔مثلاً صحت مکاتبت کے لئے ضروری ہے کہ ملکیت صحیح ہو یعنی مالک تصرف ملکیت کے بارے میں پابندی سے بالکل آزاد ہو۔اگر قرضہ وغیرہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے دار القضاء نے اس پر پابندی عائد کی ہو کہ وہ مملوکہ اشیاء جن میں لونڈی غلام بھی شامل ہیں، بیچ یا ہبہ نہیں کر سکتا تو اس کا ان سے مکاتبت کرنا بھی درست نہ ہوگا۔یا وہ فاتر العقل یا نا بالغ ہو تو اس کا عشق و ہبہ درست نہ ہوگا۔اسی طرح مکاتب کے لئے بھی صحت مکاتبت سے متعلق بعض شرطیں ہیں جن میں سے ایک شرط اہلیت و قابلیت اور امانت و دیانت ہے جس کا ذکر سابقہ باب کی تشریح میں گزر چکا ہے۔نفس عقد مکاتبت کی صحت کے لئے بھی شرط ہے کہ اس میں رقم قابل ادا اور میعاد ادائیگی معین ہو، ورنہ مکاتبت بلا تعیین صحیح قرار نہیں پائے گی بلکہ بیج مجہول کی ایک قسم ہوگی۔اس تعلق میں دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الكتابة، القول فى مسائل العقد، وشروط الكتابة مَنِ اشْتَرَطَ شَرُطًا لَيْسَ فِى كِتَابِ اللهِ : باب کے عنوان میں جائز و ناجائز شرائط کا مجمل ذکر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ہر ایسی شرط جو کتاب اللہ میں ہو وہ قبول اور جو اس میں نہ ہو وہ رڈ ہوگی۔منشاء الہی کے مطابق ہی عقد مکاتبت صحیح ہوگا اور اس تعلق میں حضرت بریرہ کا واقعہ عتق زیر باب دہرایا گیا ہے۔امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فقرہ فِی كِتابِ اللہ سے ایسی شرط مراد لی ہے جو مقتضائے کتاب اللہ کے مطابق ہو۔کتاب اللہ کے احکام سے ظاہر ہے کہ الہی منشاء غلاموں کی آزادی ہے نہ قیام غلامی۔اس لئے اگر کوئی شرط اس میں روک یا مشکل پیدا کرتی ہو وہ رڈ کر دی جائے گی۔اس باب میں بھی سابقہ باب کے مضمون کی تائید ہے کہ فَكَاتِبُوهُمْ کا حکم واجب العمل ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کی طرف ہے۔لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ: عنوانِ باب میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت کا جو حوالہ دیا گیا ہے وہ ان کی روایت کے ان الفاظ کی وجہ سے ہے: لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكَ (روایت نمبر ۲۵۶۲) یعنی مالکوں کی طرف سے پیدا کردہ روک باطل ہے اور حق ملکیت کا سوء استعمال۔حضرت عبداللہ بن عمر کی محولہ بالا روایت کے لئے کتاب البیوع باب ۶۷ روایت نمبر ۲۱۵۶ بھی دیکھئے ، جہاں لفظ اشتراط مروی ہے۔