صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 433 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 433

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳ ٢٥ - كتاب الحج وَلَمْ يَحِلَّ وَكَانَ مَعَهُ الْهَدْيُّ فَطَافَ کے ساتھ قربانی کے جانور تھے اور آپ کے ساتھ آپ مَنْ كَانَ مَعَهُ مِنْ نِّسَائِهِ وَأَصْحَابِهِ کی جو عورتیں اور صحابہ تھے ، انہوں نے بھی طواف کیا اور وَحَلَّ مِنْهُمْ مَنْ لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُ الْهَدْيُ ان میں سے جن کے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، انہوں نے احرام کھول ڈالا اور وہ (حضرت عائشہ ) حائضہ ہوئیں فَحَاضَتْ هِيَ فَنَسَكْنَا مَنَاسِكَنَا مِنْ اور ہم اپنے حج کی عبادتیں کر چکے تھے تو جب کوچ کرنے حَجِّنَا فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ لَيْلَةُ کی رات آئی؛ جس رات آپ محصب میں تھے تو النَّفْرِ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ كُلُّ (حضرت عائشہ ) نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ کے ساتھیوں حج اور عمرہ کر کے واپس لوٹے گا ؛ سوا أَصْحَابِكَ يَرْجِعُ بِحَج وَعُمْرَةِ غَيْرِي میں سے ہر ایک نے اور عمرہ میرے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم ان راتوں میں جب ہم قَالَ مَا كُنْتِ تَطُوْفِينَ بِالْبَيْتِ لَيَالِيَ (مکہ میں آئے تھے، بیت اللہ کا طواف نہیں کیا کرتی مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ قَدِمْنَا قُلْتُ لَا قَالَ فَاخْرُجِي مَعَ تھیں؟ میں نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: اپنے بھائی أَخِيكِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلِي بِعُمْرَةٍ کے ساتھ تعلیم کی طرف جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو اور وَمَوْعِدُكِ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَخَرَجْتُ فلاں فلاں مقام پر پر مجھ سے آملو تو میں عبدالرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف گئی اور وہاں عمرہ کا احرام باندھا اور الله حضرت صفیہ بنت کی بھی حائضہ ہوئیں تو نبی علی بِعُمْرَةٍ وَحَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَقٍ نے فرمایا:اے بھلی مانس اتم تو ہمیں سفر سے روک رکھو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گی۔ کیا قربانی کے دن تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ تو عَقْرَى حَلْقَى إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا أَمَا انہوں نے کہا: ہاں ۔ آپ نے فرمایا: پھر کوئی مضائقہ كُنتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ نہیں؛ کوچ کر دیں تو میں آ ردیں۔ تو میں آپ سے اس وقت ملی ؟ جب آپ مکہ سے اوپر کی چڑھائی پر جا رہے تھے اور میں بَلَى قَالَ فَلَا بَأْسَ انْفِرِي فَلَقِيْتُهُ نشیب اتر رہی تھی۔ یا کہا کہ میں چڑھائی پر جارہی تھی مُصْعِدًا عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ اور آپ نشیب میں اتر رہے تھے اور (اسود نے کہا کہ ) أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ وَقَالَ مسدد نے اس طرح روایت کی۔ یعنی میں نے کہا: عفری کا معنی ہے بانجھ اور حلقی یعنی بال کاٹنے والی لیکن یہاں یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے۔ مفہوما "اے بھلی مانس یا اللہ کی بندی مراد ہے۔