صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 270
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۷۰ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ١٦٦ : اِسْتِدَانُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ عورت کا اپنے خاوند سے مسجد جانے کے لئے اجازت مانگنا ۸۷۳: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ :۸۷۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) یزید بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ بن زُرَیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے ہعمر سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ نے زہری سے، زہری نے سالم بن عبد اللہ بن عمر ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَتِ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، اُن کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ( آپ نے فرمایا: ) امْرَأَةُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْنَعْهَا۔جب تم میں سے کسی کی عورت ( مسجد جانے کی) اجازت مانگے تو وہ اُسے نہ روکے۔تشریح: اسْتِدَانُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا بِالْخُرُوجِ إِلَى الْمَسْجِدِ: ان تین ابواب ( نمبر (۱۶۴ ۱۶۵ ۱۶۶) میں بھی یہی مضمون واضح کیا گیا ہے اور آیت قَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ کا مفہوم متعین کیا ہے۔قرنَ وقار مصدر سے متعلق ہے۔باوقار اپنے گھروں میں رہیں اور جاہلیت والی نمود ونمائش سے بچیں۔یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ عہد نبوی میں عورتیں بھی مردوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتی تھیں۔مؤخر الذکر باب (نمبر ۱۶۶) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ عورتیں نماز کے لئے مسجد جانے سے نہ روکی جائیں قطع نظر اس سے کہ دن کا وقت ہو یا رات کا۔روایت نمبر ۸۷۳ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت دونوں پابند کئے گئے ہیں۔عورت کے لئے خاوند سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہے اور مرد کا اسے اجازت دینا بھی۔مگر امام بخاری نے اس روایت سے متعلق جو عنوانِ باب ( نمبر (۱۲) قائم کیا ہے۔اس میں اس اجازت کو مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کے ساتھ مقید کر دیا ہے۔کیونکہ حکم اَقِمْنَ الصَّلوةَ کی وجہ سے عورت بھی باجماعت نماز پڑھنے کی اُسی طرح پابند ہے جس طرح مرد۔اس لئے مرد کو چاہیے کہ وہ فریضہ نماز کی ادائیگی میں حائل نہ ہو۔روایت نمبر ۷۳ کا یہ مفہوم ہر گز نہیں کہ عورتیں جہاں بھی جانے کی اجازت مانگیں خاوند انہیں اجازت دے۔اس غلط نہی سے بچانے کے لئے باب نمبر ۱۶۶ کے عنوان ہی میں روایت کا اصل مفہوم واضح کیا گیا ہے۔باب نمبر ۱۶۴ میں صحابہ کرام کے نیک نمونے کی طرف توجہ دلا کر یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد عورتوں کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنے گھروں کو لوٹیں۔مسجد میں انہیں ٹھہرنا نہیں چاہیے۔سوا اس کے کہ نماز کے بعد امام وعظ ونصیحت یا کسی اور اجتماعی کام کے لئے تحریک کرنے کی غرض سے مقتدیوں کو ٹھہرنے کے لئے کہے۔تعلقات زوجین کی بنیاد اعتماد وحسن معاشرت پر ہو۔