صحیح بخاری (جلد اوّل)

Page 140 of 774

صحیح بخاری (جلد اوّل) — Page 140

صحيح البخاري - جلد ا ۱۴۴۰ ٣- كتاب العلم نے اختیار کیے اور نہ ان کو ان لوگوں کی شرارتوں کا علم تھا۔حضرت ابوذر تو باوجود اختلاف کے کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ نہ ہوئے اور حکومت کی اطاعت اس طور پر کرتے رہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے خاص حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کو فتنہ اور تکلیف سے بچانے کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خاص وقت پر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے بغیر حضرت عثمان کی اجازت کے اس حکم پر عمل کرنا بھی مناسب نہ سمجھا اور پھر جب وہ مدینہ سے نکل کر ربذہ میں جا کر مقیم ہوئے اور وہاں کے محصل نے ان کو نماز کا امام بننے کے لیے کہا تو انہوں نے اس سے اس بناء پر انکار کیا کہ تم یہاں کے حاکم ہو، اس لیے تم ہی کو امام بنا سزاوار ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت حکام سے ان کو کوئی انحراف نہ تھا اور نہ انار کی کو وہ جائز سمجھتے تھے۔“ اسلام میں اختلافات کا آغاز - انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۲۰۶-۲۰۷) چھٹا امر یہ کہ عالم کی تعریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں کی گئی ہے یعنی وہ ربانی ہوتا ہے۔اصمعی نے اس سے وہ اہل اللہ مراد لئے ہیں جو عالم باعمل ہوں اور لوگوں کی تربیت میں اللہ تعالیٰ ان کا قبلہ مقصود ہو۔ابن عربی نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔(فتح الباری جزء اول صفحہ ۲۱۳) غرض اس باب میں علم کی بھی تخصیص کر دی اور عالم کی بھی اور صحابہ کرام کے نیک نمونہ کی مثال بھی پیش کر دی کہ وہ کلمہ حق کے پہنچانے میں کسی سے نہ ڈرتے تھے۔الله باب ۱۱ مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَيْ لَا يَنْفِرُوْا نبی ﷺو نصیحت اور علم میں جو صحابہ کا خیال رکھا کرتے تھے تا کہ وہ گھبرا نہ جائیں ٦٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ :۶۸ ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: سفیان قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ نے ہمیں بتلایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ كَانَ ابووائل سے، ابو وائل نے حضرت ابن مسعودؓ سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَا روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی ﷺ چونکہ ہمارے بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّامَةِ اُکتا جانے کو نا پسند کرتے ، اس لئے آپ ہمارا خیال رکھ کر مقررہ دنوں میں ہمیں نصیحت فرمایا کرتے تھے۔عَلَيْنَا۔اطرافه: ٧٠، ٦٤١١۔یہ اقتباس پہلے ایڈیشن میں نہیں تھے۔نظر ثانی کے وقت شامل کیے گئے ہیں۔