صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 448
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۴۸ ۹۳ - كتاب الأحكام آپ اور آپ کے صحابہ اپنی نمازوں میں قرآن شریف کی باقاعدہ تلاوت فرمایا کرتے تھے اور بعض اوقات نمازوں میں لمبی لمبی قرآتیں پڑھتے تھے۔چنانچہ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دفعہ آپ نے ایک ہی تجد یعنی نصف شب کی نماز میں قرآن شریف کی پہلی پانچ سورتوں کی جو مجموعی طور پر قرآن کریم کے پنجم حصہ کے برابر بنتی ہیں آٹھی اور بالترتیب قرآت فرمائی تھی۔اور یہی وہ لمبے قیام ہیں جن کی وجہ سے بسا اوقات آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے تھے۔اور بعض روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ آپ ہر سال ماہ رمضان میں جبریل علیہ السلام کے ساتھ قرآن شریف کا دور فرمایا کرتے تھے اور آخری سال دو دفعہ مکمل دور فرمایا۔ہے باتیں اس بات کو یقینی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ قرآن شریف کی ترتیب اور جمع کا حقیقی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا۔پس زید بن ثابت کے جمع کرنے سے صرف یہ مراد ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر خلیفہ اول کے حکم اور ان کی نگرانی کے ماتحت قرآن مجید کو ایک مصحف یعنی جلد یا کتاب کی صورت میں اکٹھا کر سکے لکھا تا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتب کردہ قرآن کی ایک مستند اور یکجائی کاپی ضبط میں آجاوے اور روایت سے پتہ لگتا ہے کہ پھر اسی مصحف سے بعد میں حضرت عثمان خلیفہ ثالث نے متعدد مصدقہ نقلیں تیار کرا کے انہیں اس وقت کی اسلامی دنیا کے مختلف علاقوں میں بھجوا دیا اور پھر انہی مصدقہ نقول سے آگے مزید اشاعت ہوتی گئی۔کے علاوہ ازیں ہر زمانہ میں ہزاروں بلکہ لاکھوں حفاظ نے قرآن کریم کو اپنے سینوں میں لفظ بلفظ محفوظ کر کے اس کی حفاظت کا ایک مزید ظاہری سبب مہیا کیا۔اس بات کا اندازہ کرنے کے لیے کہ مسلمانوں کو قرآن شریف کے حفظ کرنے کا کس قدر شوق رہا ہے۔صرف یہ روایت کافی ہے کہ جب ایک دفعہ کسی غرض سے حضرت عمرؓ کو قرآن کے حفاظ کے پتہ لینے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس وقت کی اسلامی افواج کے صرف ایک دستہ میں تین سو سے زائد حافظ قرآن تھے۔ہے۔موجودہ زمانہ میں بھی جبکہ لوگوں میں دین کا شوق بہت کم ہو گیا ہے۔اسلامی دنیا میں حفاظ قرآن کی تعداد یقینا لاکھوں سے کم نہیں ہوگی۔(سیرت خاتم النبین ملی نیم از حضرت مرزا بشیر احمد ایم۔اے صفحہ ۵۹۸ تا ۲۰۰) " سان أبي ابو داؤد، کتاب الصلاة، بَاب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ) (بخاری، کتاب التهجد، باب قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّيْلَ حَتَّى تَرَمَ قَدَمَاهُ) (بخاری ،کتاب فضائل القرآن باب كان جبريل يعرض (القرآن) (بخاری، کتاب فضائل القرآن باب جمع القرآن ) ( تح الباری جزء ۹ صفحه ۲۴ تا ۲۷) كنز العمال، باب فی القرآن، فصل فی فضائل القرآن)