صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 347
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۳۴۷ ۹۲ - كتاب الفتن نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے دیکھے تھے تو کیا اس سے کڑے ہی مُراد تھے ؟ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گائیاں ذبح ہوتے دیکھیں تو کیا اس سے گائیاں ہی مراد تھیں؟ ہر گز نہیں بلکہ ان کے اور معانی تھے۔ پس اسی طرح مسیح موعود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس رنگ میں دیکھنا کہ گویا وہ غسل کر کے آتا ہے اور غسل کے قطرے موتیوں کی طرح اس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ بہت توبہ کرنے والا اور رجوع کرنے والا ہو گا اور ہمیشہ اُس کا تعلق خدا تعالیٰ سے تازہ بتازہ رہے گا گویا وہ ہر وقت غسل کرتا ہے اور پاک رجوع کے پاک قطرے موتیوں کے دانوں کی طرح اُس کے سر پر سے ٹپکتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں بھی خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کو غسل سے مشابہت دی ہے جیسا کہ نماز کی خوبیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کے گھر کے دروازے کے آگے نہر ہو اور وہ پانچ وقت اس نہر میں غسل کرے تو کیا اُس کے بدن پر میل رہ سکتی ہے صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں۔ تب آپ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے (جو جامع توبہ اور استغفار اور دعا اور تفرع اور نیاز اور تحمید اور تسبیح ہے) اُس کے نفس پر بھی گناہوں کی میل نہیں رہ سکتی گویا وہ پانچ وقت غسل کرتا ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ مسیح موعود کے غسل کے بھی یہی معنے ہیں ورنہ جسمانی غسل میں کونسی کوئی خاص خوبی ہے۔ اس طرح تو ہندو بھی ہر روز صبح کو غسل کرتے ہیں اور غسل کے قطرے بھی ٹپکتے ہیں۔ افسوس کہ جسمانی خیال کے آدمی ہر ایک روحانی امر کو جسمانی امور کی طرف ہی کھینچ کر لے جاتے ہیں اور یہود کی طرح اسرار اور حقائق سے نا آشنا ہیں۔“ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲، صفحه ۳۲۱ تا ۳۲۳) فَإِذَا رَجُلٌ جَسِيمُ أَحْمَرُ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالُوا هَذَا الدَّجَّالُ: ایک بھاری بھر کم سرخ رنگ کا شخص ہے گھنگھریالے بالوں والا، آنکھ سے کانا ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے اس ہوتا تھا جیسے اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ دجال ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور یہ امر کہ مسیح موعود دجال کے مقابل پر خانہ کعبہ کا طواف کرے گا یعنی دجال