صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 633
صحیح البخاری جلد ۱۵ Ymp ۸۶ - كتاب الحدود بَرِثُوا قَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ اور دودھ پئیں۔چنانچہ انہوں نے ان کا دودھ اور فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پیشاب پیا۔جب وہ اچھے ہو گئے تو انہوں نے غُدْوَةً، فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي إِثْرِهِمْ فَمَا چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔تو ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ صبح سویرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بر پہنچی اور آپ نے تعاقب کرنے والوں کو اُن کے پیچھے بھیج بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ دیا۔دن ابھی نہیں چڑھا تھا کہ انہیں لایا گیا۔آپ أَعْيُنَهُمْ فَأَلْقُوا بِالْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا نے اُن کے متعلق حکم دیا اور اُن کے ہاتھ پاؤں يُسْقَوْنَ۔قَالَ أَبُو قِلَابَةَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ کاٹ ڈالے اور ان کی آنکھ میں سلائیاں پھروا سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ ،دیں، پتھریلی زمین میں وہ ڈال دیئے گئے، پانی وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔مانگتے تھے اور انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ابو قلابہ نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے چوری کی، قتل کیا اور اپنے ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔أطرافه ۲۳۳ ۱۵۰۱ ،۳۰۱۸، ۱۹۲ ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٦، -٦٨٠٣، ٦٨٠٤، ٦٨٩٩ بَاب ۱۹: فَضْلُ مَنْ تَرَكَ الْفَوَاحِشَ جس نے فحش کلام چھوڑ دیا اس کی فضیلت ٦٨٠٦ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ :۶۸۰۶: محمد بن سلام نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بنِ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، عبید اللہ نے خبیب بن عُمَرَ عَنْ حُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عبد الرحمن سے ، خبیب نے حفص بن عاصم سے، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حفص نے حضرت ابو ہریرہ سے ، حضرت ابوہریرۃ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلَهِ فرمایا سات آدمی ہیں جنہیں اللہ قیامت کے دن