صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 566
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۵- کتاب الفرائض بَاب ١٥ : ابْنَيْ عَمّ أَحَدُهُمَا أَخْ لِلْأُمِّ وَالْآخَرُ زَوْجٌ چچا کے دو بیٹے ، ان میں سے ایک ماں کی طرف سے بھائی ہو اور دوسرا خاوند ہو وَقَالَ عَلِيٌّ لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْآخِ اور حضرت علی نے کہا: خاوند کو آدھا حصہ ملے گا مِنَ الْأُمّ السُّدُسُ وَمَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا اور ماں کی طرف سے جو بھائی ہے اس کو چھٹا حصہ ملے گا اور جو بیچ رہے تو ان دونوں کے درمیان نِصْفَانِ۔آدھا آدھا ہو گا۔٦٧٤٥ : حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ أَخْبَرَنَا :۲۷۴۵ محمود ( بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ که عبد اللہ بن موسیٰ) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابوحصین سے، اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ابو حصین نے ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ مَّاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَمَالُهُ کہا: رسول اللہ کی لیکم نے فرمایا: میں مؤمنوں سے ان کی اپنی جانوں سے زیادہ تعلق رکھتا ہوں۔اس لِمَوَالِي الْعَصَبَةِ وَمَنْ تَرَكَ كَلَّا أَوْ لئے جو (مؤمن) وفات پا جائے اور اس نے کوئی ضَيَاعًا فَأَنَا وَلِيُّهُ فَلِأُدْعَى لَهُ الْكَلُّ جائیداد چھوڑی ہو تو اس کی جائیداد اس کے خاندانی الْعِيَالُ۔رشتہ داروں کی ہوگی اور جو کوئی بوجھ یا بے کس بال بچے چھوڑ گیا ہو تو میں اس کا ولی ہوں اس لئے مجھے بلایا جائے۔الحال کے معنی ہیں عیال۔أطرافه ۲۲۹۸، ۲۳۹۸، ۲۳۹۹، ۱۷۸۱، 5۳۷۱، 6731، ٦٧٦٣۔٦٧٤٦: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامِ ٢٧٤٦: امیہ بن بسطام نے ہم سے بیان کیا کہ یزید حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحٍ عَنْ بن زریع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے روح (بن قاسم) عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ سے ، روح نے عبد اللہ بن طاؤس سے، عبد اللہ نے عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت ابن عباس قَالَ الْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا سے حضرت ابن عباس نے نبی صلی للہ کم سے روایت