صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page iii
بسم اللہ الرحمن الرحیم پیش لفظ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا - (الحشر: ٨) (ترجمہ : اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں رو کے اُس سے رک جاؤ۔) حضرت نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کل انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے محدثین کے ذریعہ ہمارے پاک نبی صلی الم کے اقوال کو جمع کرنے اور ان کی تدوین و اشاعت کے اسباب بھی پیدا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ " قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ لعمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب اللہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم وہ اسح الکتب مانتے ہیں۔“( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۰۷،۱۰۸) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ نے صحیح بخاری کے ترجمہ و شرح سے کام کو شروع کیا۔آپ کی وفات کے بعد یہ پراجیکٹ ادارۃ المصنفین اور پھر نظارت اشاعت کے زیر انتظام جاری رہا۔سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر صحیح البخاری۔ترجمہ و شرح کی گیارہ جلدوں کی انگلستان سے طباعت ہو چکی ہے اور اب بقیہ جلد بارہ تاسولہ کی طباعت کی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت رسول کریم صلی نیلم کے اسوہ حسنہ اور پاک تعلیمات کے مطابق اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا کرے۔آمین منیر الدین شمس ایڈیشنل وکیل التصنيف جنوری ۲۰۲۳ء