صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 128 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 128

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۱۲۸ ٧٦ - كتاب الطب نیت بدل گئی تو اس صورت میں ہونا یہ چاہئے تھا کہ وہ اونٹ لے کر بھاگ جاتے اور اگر کوئی رکھوالا روک بنتا تو زیادہ سے زیادہ اسے مار کر نکل جاتے مگر جس رنگ میں انہوں نے مسلمان چرواہوں کو قتل کیا اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر قتل کے سفاکانہ فعل کو لمبا کیا اور عذاب دے کر مارا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا یہ فعل اتفاقی لالچ کا نتیجہ نہیں تھابلکہ سراسر معاندانہ رنگ رکھتا تھا اور دلی کینہ اور لمبے بغض کا نتیجہ تھا۔اور ان کے اس ظالمانہ فعل کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا وہ محض قصاصی اور جوابی تھا جو اسلامی احکام کے نزول سے پہلے موسوی شریعت کے مطابق کیا گیا، لیکن اس کے بعد جلد ہی اسلامی احکام نازل ہو گئے اور اس قسم کی تعذیب انتقامی رنگ میں بھی ناجائز قرار دے دی گئی چنانچہ بخاری کے الفاظ یہ ہیں : ان النبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ كَانَ يحث على الصَّدَقَةِ وَيَنْهَى عَنِ المُخْلَةِ يعنى اس واقعہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم احسان اور حسن سلوک کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور ہر حال میں دشمنوں کے جسموں کے مثلہ کرنے سے منع فرماتے تھے۔66 سیرت خاتم النبيين على ا ل ، صفحہ ۸۳۶ تا ۸۳۸) باب ۳٠: مَا يُذْكَرُ فِي الطَّاعُونِ طاعون کے متعلق جو بیان کیا جاتا ہے ٥٧٢٨ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا :۵۷۲۸ حفص بن عمر (حوضی) نے ہم سے بیان شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا حبیب بن ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدِ الي ثابت نے مجھے خبر دی۔انہوں نے کہا: میں نے قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ ابراہیم بن سعد ( بن ابی وقاص) سے سنا۔انہوں سَعْدًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: میں نے حضرت اُسامہ بن زیڈ سے سنا۔قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضِ فَلَا حضرت اُسامہ نے حضرت سعد سے بیان کیا کہ تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضِ وَأَنْتُمْ بِهَا اُنہوں نے نبی صلی الم سے روایت کی۔آپ نے