صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page iii
بسم الله الرحمن الرحیم پیش لفظ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا - (الحشر : ٨) (ترجمہ : اور رسول جو تمہیں عطا کرے تو اسے لے لو اور جس سے تمہیں رو کے اُس سے رک جاؤ۔ ) حضرت نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کل انسانیت کے لئے اسوہ حسنہ ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے محدثین کے ذریعہ ہمارے پاک نبی صلی علیم کے اقوال کو جمع کرنے اور ان کی تدوین و اشاعت کے اسباب بھی پیدا فرمائے۔ صد الله حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ ” قرآن شریف کی اور احادیث کی جو پیغمبر خدا سے ثابت ہیں اتباع کریں۔ ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشر طیکہ وہ قرآن شریف کے مخالف نہ ہو ہم واجب العمل سمجھتے ہیں اور بخاری اور مسلم کو بعد کتاب اللہ اصح الکتب مانتے ہیں۔ “ ( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۱۰۷،۱۰۸) شاہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ارشاد پر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ صاحب رضی اللہ عنہ نے صحیح بخاری کے ترجمہ و شرح کے کام کو شروع کیا۔ آپ کی وفات رضی اللہ عنہ نے نے یہ بخاری و کے کے بعد یہ پراجیکٹ ادارۃ المصنفین اور پھر نظارت اشاعت کے زیر انتظام جاری رہا۔ سید نا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر صحیح البخاری۔ ترجمہ و خليفة يده الله ہدایت پر شرح کی گیارہ جلدوں کی انگلستان سے طباعت ہو چکی ہے اور اب بقیہ جلد بارہ تاسولہ کی طباعت کی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضرت رسم رسول کریم صلی علیم کے مطابق اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین اسوہ حسنہ اور اور پاک تعلیمات کے منیر الدین شمس ایڈیشنل وکیل التصنيف جنوری ۲۰۲۳ء