بُخارِ دل — Page 187
187 ہے صفائے جسم بھی اور جلائے رُوح بھی <mark>جا</mark>ن و تن کی میل ہر لحظہ چھٹاتی ہے نماز حضرت باری کو پہلے آسماں پر ہر سحر عرش سے وقت تہجد کھینچ لاتی ہے نماز روح جب ہوتی ہے حاضر پیش رب العا لمیں کیسی کیسی پھر منا<mark>جا</mark>تیں سکھاتی ہے نماز عید گاہ میں، عید کے دن، دل پہ غیر اقوام کے امپریشن نے اپنا کیا اچھا بٹھاتی ہے نماز زندگی ہے۔خلِ ایماں کی یہی آپ حیات موت ہے، ضائع اگر کوئی بھی <mark>جا</mark>تی ہے نماز اے خدا ہم کو عطا کر اور ہماری ٹنل کو نعمتیں اور بخششیں جو جو بھی لاتی ہے نماز پنچ ارکانِ اسلام (الفضل 7 جولائی 1943ء) ائنٹ اور بکی کے دن ہوا تھا عہد جو باہم نہ ہو اعلان گر اُس کا تو ایماں نامکمل ہے توجہ ہو، تفرغ ہو، تدلن ہو، تبثل ہو نماز عشق ان ارکان سے ہوتی مکمل ہے زکوۃ مال سے گر تزکیہ حاصل نہ ہو دل کا تو گویا دے کے سونے کولیا بدلے میں پیتل ہے نہ دیں وہ داد روزے کی اگر ” الصوم لی کہہ کر تو انعامِ أَنَا أَجْزِئُ بِهِ “ امید مل ہے نہ <mark>جا</mark>نا صرف ظاہر پر ادائے حج میں اے مسلم ! کہ راز عشق ہر ہر رکن میں اس کے مقفل ہے کبھی بھرتے ہیں کوچے میں کبھی چاروں طرف گھر کے ضامرہ پر چین ان کو نہ کھے میں انہیں کان ہے Impression 1