بُخارِ دل — Page 166
166 فطرت کسی نے ایک دن پوچھا عمر سے یوں کہ اے حضرت بھلا تھا <mark>جا</mark>ہلیت میں جو غصہ کیا وہ اب بھی جوابا ہنس کے فرمایا کہیں فطرت بھی بدلی ہے؟ ہے؟ ازن سے جو ملا تھا خُلق کا حصہ وہ اب بھی ہے بدل ڈالا ہے رُخ اُس کا مگر اب کفر کی <mark>جا</mark>نب جلالِ فطرتی ورنہ جو پہلے تھا وہ جو پہلے تھا وہ اب بھی ہے“