برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 169

برکاتِ خلافت — Page 103

برکات خلافت 103 پڑھ لوں گا اس طرح وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا اور آخر اول وقت نماز پڑھنے کی عادت جاتی رہتی ہے یا جمع کر کے نماز ادا کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور نماز با<mark>جماعت</mark> ادا کرنے سے تو ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اگر کہیں با<mark>جماعت</mark> نماز پڑھنے کا موقع مل بھی جائے تو بھی سستی کر دیتا ہے۔گو یہ عادت ایک مجبوری کی وجہ سے اسے پڑتی ہے لیکن احمدیوں میں ہرگز ہرگز سستی نہ ہونی چاہئے۔جس وقت سستی پیدا ہوئی اسی وقت سے اس <mark>جماعت</mark> کی تباہی کا آغاز ہو جائے گا (نعوذ باللہ من ذلک ) پس جس گاؤں میں کوئی اکیلا احمدی ہے وہ کوشش کرے کہ دوسرا پیدا ہو جائے۔مجھے امید ہے کہ اگر اس طرح کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ ضرور اس کا ساتھی پیدا کر دے گا۔لیکن اگر دوسرا ساتھی نہ ہو تو دوسرے گاؤں میں جا کر جہاں کوئی احمدی ہو دوسرے تیسرے دن نماز با<mark>جماعت</mark> پڑھو اور ستی کی عادت نہ ڈالو۔اگر تم اس کو بھولے تو یا درکھو کہ پھر تم ترقی نہیں کر سکو گے۔وہ احمدی جو بڑے بڑے شہروں میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے مکان تک ان کا جانا مشکل ہوتا ہے ان کے لئے یہ بات نہایت مشکل ہے کہ ہر نماز کے وقت ایک جگہ جمع ہو سکیں۔لیکن ان کو چاہئے کہ اپنے محلہ کے احمدی مل کر با<mark>جماعت</mark> نماز پڑھا کریں اور کبھی کبھی سارے اکٹھے ہو کر بھی پڑھیں سستی ہرگز نہیں ہونی چاہئے۔یہ ایسی خطرناک بات ہے کہ اس کے نتائج بہت برے نکلتے ہیں مجھے قرآن شریف سے یہی معلوم ہوا ہے کہ جس کو نماز با<mark>جماعت</mark> پڑھنے کا موقع ملے اور وہ نہ پڑھے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی۔حضرت ابن عباس کا بھی یہی مذہب ہے۔