انوارالعلوم (جلد 9) — Page 61
انوار العلوم جلد 9 4 حج بیت اللہ اور فتنہ حجاز مکہ مکرمہ سے پانچ منزل پر واقع ہے۔ اور معمولی حالات میں مکہ سے رابغ تک انسان پانچ دن میں پہنچ جاتا ہے۔ رابغ اور دو اور بندر اس وقت امیر ابن سعود کے قبضہ میں ہیں۔ اور اس وجہ سے تحریک کی جا رہی ہے کہ حاجیوں کے جہاز اگر اس بندر پر جاویں تو آسانی سے مکہ پہنچ سکتے ہیں۔ مگر اس خیال کے لوگوں کی نظروں سے چند امور پوشیدہ ہیں۔ ا- رابغ گو پر انا بند رہے لیکن بڑے جہازوں کے ٹھرنے کے قابل نہیں۔ کیونکہ وہاں عام طور پر بڑے جہاز نہیں ٹھہرتے اور خصوصاً چونکہ وہ اب مکہ کا بندر نہیں ہے اس لئے وہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان کی منزلیں غیر آباد ہو چکی ہیں۔ پس نہ تو رابغ میں حاجیوں کے آرام کے لئے کافی جگہ مل سکتی ہے اور نہ راستہ کی منزلوں میں ان کے ٹھرنے کی کوئی مناسب صورت ہو سکتی ہے ۔ مزید بر آل عرب میں سب سے اہم سوال کھانے پینے کا ہوتا ہے اور پانچ منزلوں پر کافی ذخیرہ کھانے پینے کا مہیا کر دینا ایک بہت بڑا کام ہے۔ امیر ا بن سعود نے انتظام کا وعدہ کیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ امیر ابن سعود جنگی آدمی ہیں۔ اور عرب کے باشندے ہیں۔ وہ انتظام کے جو معنے سمجھتے ہیں وہ بالکل اور ہیں ۔ ایک عرب سپاہی کھجور کی گٹھلیاں کھا کر یا درختوں کی چھال کھا کر کئی دن گزارہ کر لیتا ہے۔ اور پانی کا ایک گھونٹ اس کی تشنگی کے بجھانے کے لئے کافی ہوتا ہے یہ چیزیں ہندوستانی آدمیوں کے لئے گزارہ نہیں کہلا سکتیں۔ اور خصوصاً عورتوں بچوں کے لئے تو ایسے حالات میں یقینی تباہی ہے۔ وہ جو کچھ بھی انتظام کریں گے اس میں ہندوستانی طریق رہائش کا لحاظ نہیں رکھا جا سکتا۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہوٹلوں اور اعلیٰ قہوہ خانوں کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ یہ انتظام تو پہلے بھی نہ تھا۔ میرا مطلب انتظام سے یہ ہے کہ پینے کو پانی مل جائے اور کھانے کو غلہ اور کافی اونٹ ہوں۔ جن پر لوگ سوار ہو کر مکہ پہنچ سکیں۔ میرا جہاں تک خیال ہے امیر بن سعود کے لئے باوجود اس کے کہ ان کی کامیابی اس سال کے حج کی کامیابی پر منحصر ہے یہ انتظام بھی مشکل ہو گا۔ ۲۔ دوسری وقت یہ ہے کہ رابغ گو امیر ابن سعود کے قبضہ میں ہے مگر اس کا راستہ ساحل کے کنارے کنارے مکہ کی طرف جاتا ہے اور یہ علاقہ شریف علی کے قبضہ میں ہے۔ چونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں شریف علی کو حاجیوں کے مکہ پہنچنے میں سخت نقصان کا اندیشہ ہے اس لئے وہ بھی آسانی سے ان قافلوں کو گزرنے نہیں دیں گے۔ اور ضرور ہے کہ اگر خود مصلحتا حاجیوں کے قافلوں پر دست درازی نہ کریں تو ارد گرد کے قبائل کو اکسا کر ان سے حملہ کروادیں اور حاجیوں کو مال اور جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔